سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم ـ بھارت کے غیرقانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر کی اسمبلی میں بھارتی فوجیوں کیطرف سے حال ہی میں ضلع گاندربل کے علاقے ارامہ میں ایک بےگناہ کشمیری نوجوان رشید احمد مغل کے جعلی مقابلے میں قتل پر شدید احتجاج اور لاش تدفین کیلئے ورثا کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ بھارتی فوجیوں ، پیرا ملٹری اور سپیشل آپریشنز گروپ کے اہلکاروں نے نوجوان کو بدھ کے روز محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے دوران ایک جعلی مقالبے میںشہید کیا تھا۔
ذرائع کے مطابق حکمران نیشنل کانفرنس، اس کی اتحادی جماعت کانگریس اور حزب اختلاف کی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے ارکان اسمبلی نے ایوا ن میں اپنی جگہوں پر کھڑے ہو کر بیگناہ نوجوان کے بہیمانہ قتل کے خلاف احتجاج درج کیا ۔نیشنل کانفرنس کے رکن مبارک گل نے قتل کی مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ عام شہریوں اور عسکریت پسندوں میں واضح فرق ہونا چاہیے۔ حکمران جماعت نیشنل کانفرنس کے ایک اور رکن جسٹس (ریٹائرڈ) حسنین مسعودی نے کہا کہ آئین میں باعزت تدفین کے حق کی ضمانت دی گئی ہے اور خاندان کو نوجوان کی لاش سونپ دی جانی چاہئے تاکہ اس کی بیوی، بچے اور دیگر غمزدہ لواحقین آخری بار اس کا چہرہ دیکھ سکیں اور نعش کی باوقار تدفین کرسکیں۔نیشنل کانفرنس ہی کے رکن میر سیف اللہ نے معاملے کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
کانگریس ایم ایل اے نظام الدین بھٹ نے غمزدہ خاندان کو معقول تدفین کا حق دیا جانا چاہئے۔ کانگریس ہی کے رکن اسمبلی عرفان حفیظ لون اسمبلی میں ایک پوسٹر لائے تھے جس پر لکھی عبارت میں نوجوان کے قتل کی مذمت کی گئی تھی جبکہ ہندو توا جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے ارکان اسمبلی نے نوجوان کے بہیمانہ قتل پر مکمل چپ سادھ رکھی ہے۔
