Input your search keywords and press Enter.

محمد فاروق رحمانی کی رام بن میں ہندو انتہا پسندوں کے ہاتھوں مسلم نوجوان کے قتل کی مذمت

سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم ـ کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں و کشمیر کے سینئر رہنما اور جموں وکشمیر پیپلز فریڈم لیگ کے چیئرمین محمد فاروق رحمانی نے بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع رام بن میں گائے کے نام نہاد محافظوں کے ہاتھوں ایک مسلمان نوجوان کے قتل کی شدید مذمت کی ہے۔

میڈیا سورسز کے مطابق محمد فاروق رحمانی نے اسلام آباد میں جاری ایک بیان میں تنویر احمد چوپان نامی نوجوان کے قتل کا ذمہ دار بی جے پی کی زیر قیادت بھارتی حکومت اور مقبوضہ علاقے کی انتظامیہ کو ٹھہرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندو انتہا پسند غنڈوں نے چوپان کو اپنے مویشیوں کی منتقلی کے دوران وحشیانہ تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے قتل کیا۔انہوںنے کہا کہ بی جے پی کے برسراقتداد آنے کے بعد سے بھارت بھر میں مسلمانوں کو پیٹ پیٹ کو قتل کرنا ایک معمول بن چکا ہے ۔ محمد فاروق رحمانی نے کہا کہ اگست 2019میں مقبوضہ جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد سے یہاںبھی ہندو انتہا پسند عناصر کو اپنی مذموم سرگرمیوںکی شہہ ملی ۔ انہوںنے کہا کہ اس طرح کے واقعات علاقے میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کی بی جے پی حکومت کی مذموم کوششوں کا حصہ ہیں۔

کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ علاقے کے لیفٹیننٹ گورنر کو نوجوان کے قتل کا جوابدہ ٹھہرائیں،تنویر احمد کے قتل میں ملوث تمام افراد کی جلد گرفتاری اور معاملے کی شفاف تحقیقات کو یقینی بنائیں۔ انہوںنے کہا کہ مستقبل میں اسے طرح کے بہیمانہ واقعات کی روک تھام کیلئے قصور واروں کو کڑی سزا دینا ضروری ہے۔

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *