Input your search keywords and press Enter.

برطانوی پارلیمنٹ میں ”جسٹس فار یاسین ملک” کے عنوان سے کانفرنس کا انعقاد

سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم ـ برطانوی پارلیمنٹ میں ایک کانفرنس کے مقررین نے غیر قانونی طور پربھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال اور بھارتی حکام کی جانب سے غیر قانونی طورپر نظربند جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک اور دیگر کشمیری سیاسی رہنمائوں کیخلاف انتقامی کارروائی پر شدید تشویش کا اظہار کیاہے۔

میڈیا سورسز کے مطابق جے کے ایل ایف کی جانب سے ”جسٹس فار یاسین ملک” کے عنوان سے کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ کانفرنس کی صدارت ایم پی عمران حسین نے کی، جو کل جماعتی پارلیمانی گروپ برائے کشمیر کے سربراہ ہیں اور ایم پی رچرڈ برگون نے برطانیہ میں مقیم لبریشن فرنٹ کے رہنما امجد نواز کے تعاون سے کانفرنس کی میزبانی کی۔ کانفرنس میں متعددارکان پارلیمنٹ، کونسلرز، بیرون ملک مقیم کشمیریوں، قائدین اوردیگر نے شرکت کی۔لبریشن فرنٹ کے ترجمان اعلیٰ کی طرف سے اسلام آباد میں جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ کانفرنس کاانعقاددلی ہائی کورٹ میں محمد یاسین ملک کے خلاف سزائے موت کے کیس کی سماعت کے پس منظر میںکیاگیا ہے۔جے کے ایل ایف کے رہنمائوں کے علاوہ برطانوی اراکین پارلیمنٹ اور سیاسی شخصیات بشمول لارڈ قربان حسین، اسٹیفن ٹمز، افضل خان، تمن جیت سنگھ، یاسمین قریشی اور جوشوا رینلڈز کے علاوہ کشمیری نمائندوں اور اسکالر ڈاکٹر سرینا حسین نے کانفرنس سے خطاب کیا جبکہ یاسین ملک کی بیٹی رضیہ سلطانہ نے اسلام آباد سے آن لائن تقریر کی۔مقررین نے مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کیا اور آزادی پسند کشمیری سیاسی رہنمائوں بشمول محمد یاسین ملک، مسرت عالم بٹ، شبیر احمد شاہ، آسیہ اندرابی، فاروق ڈار، نذیر شیخ اور دیگر کی مسلسل غیر قانونی نظربندی کی شدید مذمت کی ۔مقررین نے برطانوی حکومت پر زور دیا کہ وہ تمام غیر قانونی طورپر نظربند تمام آزادی پسند کشمیری رہنمائوں کی فوری اور غیر مشروط رہائی کے لیے بھارت پر دبائو ڈالے۔ کانفرنس میں ارکان پارلیمنٹ نے کہاکہ یاسین ملک کا کیس انسانی حقوق کے علمبرداروں کے لیے چشم کشا ہے جنہیں مودی کی ہندوتوا حکومت بدترین سیاسی انتقام کا نشانہ بنارہی ہے ۔

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *