سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز ـ وفاقی دارالحکومت میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کی متعدد مالی ضروریات تھیں، مذاکرات سے متفقہ حل نکالا گیا، طے ہوا کہ صوبوں سے صرف قومی سلامتی کے لیے حصہ مانگا جائے گا۔
اُنہوں نے کہا کہ مزید کسی مقصد کے لیے صوبوں پر مالی بوجھ نہیں ڈالا جائے گا، مذاکرات کی کامیابی پر اسحاق ڈار کا شکر گزار ہوں، سیاسی انداز میں قومی ضروریات پوری کرنا بڑی کامیابی ہے۔ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کے زیرانتظام صوبے بھی قومی اتفاق رائے میں شامل ہیں، کشمیر کی موجودہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے، کشمیری اور پاکستانی عوام کشمیر کے حالات پر فکرمند ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بھارت اور اسرائیل کا گٹھ جوڑ پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے،ریاستی مفاد کو ذاتی پسند و ناپسند پر ترجیح دینی چاہیے، کوئی حکومت قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دے سکتی۔ انکا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی ہمیشہ مسائل کے سیاسی حل کی حامی رہی ہے، کشمیر میں پیپلزپارٹی کو حکومت سازی سے محروم رکھا گیا، عمران خان کے دور میں پی پی پی کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا گیا، آزاد کشمیر میں کٹھ پتلی حکومت قائم کی گئی۔
