سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم ـ غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں لیفٹننٹ گورنر منوج سنہا کی زیر قیادت قابض انتظامیہ کی نام نہادانسداد منشیات مہم درحقیقت مظلوم کشمیریوں کی معیشت پر حملہ ہے۔
میڈیا سورسز کے ایڈیٹر رئیس میر کی مرتب کردہ ایک رپورٹ کے مطابق اس مہم کی آڑ میں نئی دلی کا مسلط کردہ گورنر ایک بیانیہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں منشیات کا استعمال ایک وبا بن چکی ہے۔ تاہم قابض انتظامیہ کے پاس ان دعووں کو ثابت کرنے کے لیے کوئی معتبر شواہد، حقائق یا اعداد و شمار موجود نہیں ہیں۔2019 سے بی جے پی حکومت اور مقبوضہ علاقےمیں اس کی انتظامیہ مقامی معیشت کو اپنے کنٹرول میں لانے کی کوشش کر رہی ہے۔ پوست کے بیجوں کی کاشت اور ریت اور پتھروں کی کان کنی جیسی سرگرمیاں اس مقامی معیشت کا ایک اہم حصہ ہیں۔ انسدادمنشیات مہم اپریل میں جان بوجھ کر شروع کی گئی کیونکہ وادی کشمیر میں مئی میں پوست کی کٹائی کی جاتی ہے۔ افغانستان جیسے مقامات کے برعکس کشمیر میں خشخاش کی کاشت صدیوں سے روایتی طور پر مقامی ثقافت اور کھانے خاص طور پر بیکری کی مصنوعات میں کا حصہ رہی ہے۔ مقامی طور پر کاشت کی گئی پوست سے ہیروئن یا دیگر نشہ آور اشیاءبنائے جانے کا ایک بھی واقعہ رپورٹ نہیں ہوا۔پوست کی کاشت خواتین کے لیے آمدنی کا ایک چھوٹا لیکن اہم ذریعہ ہے جو اسے لہسن اور پیاز کی فصلوں کے ساتھ اگاتی ہیں۔ پیداوار عام طور پر روایتی مقامی نانبائیوں کو فروخت کی جاتی ہے جس سے گھریلو آمدنی اور مقامی معیشت میں اضافہ ہوتا ہے۔مقبوضہ جموں وکشمیر میں منشیات کی محدود کھپت زیادہ تر طبی ادویات سے منسلک ہے جن میں ٹراماڈول، آکسی کوڈون، فینٹینیل، میتھاڈون، ڈیکسٹرو میتھورفن، میپیریڈائن، کوڈین، کوریکس، اور بیوپرینورفائن شامل ہیں جو بھارتی ریاستوں سے مقبوضہ جموں وکشمیر آزادانہ طور پر منتقل کیے جاتے ہیں۔ تاہم مقامی لوگوں کے مطابق ایسے منشیات کی فروخت اور تقسیم میں ملوث افراد بڑی حد تک پولیس کی کارروائی سے بچ جاتے ہیں۔ جہاں بی جے پی کی گورنر انتظامیہ منشیات کے خلاف جنگ لڑنے کا دعویٰ کرتی ہے، وہیں وادی کشمیر میں اندھا دھند طریقے سے شراب کی دکانیں کھولی جا رہی ہیں۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ان دکانوں کے لیے لائسنس کا حصول انتہائی آسان بنا دیا گیا ہے جس کی وجہ سے لوگوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور نشے اور منشیات حوالے سے انتظامیہ کے دوہرے معیارپرتنقید کی جارہی ہے۔۔ منشیات کے استعمال کی مبالغہ آمیز تصویر کشی کا مقصد کشمیر کی معیشتکو کمزور کرنا ہے۔اسی طرح، ریت، پتھر اور دیگر قدرتی وسائل کی کان کنی میں ملوث افراد کو این ڈی پی ایس اور پی ایس اے جیسے کالے قوانین کے تحت گرفتاراورسزادی جارہی ہے۔ ان شعبوں سے حاصل ہونے والی آمدنی مقامی منڈیوں میں گردش کرتی تھی اور ہزاروں خاندانوں کی روزی روٹی کو سہارا ملتا تھا۔ لیکن ان کارروائیوںنے تعمیراتی صنعت کو بری طرح متاثر کیا ہے جس کے نتیجے میں معاشی جمود اور بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے۔مبصرین کا کہنا ہے کہ بی جے پی حکومت مقبوضہ علاقے میں تمام مالی وسائل کو اپنے براہ راست کنٹرول اور نگرانی میں لانے کی کوشش کر رہی ہے۔ قابض انتظامیہ نے کشمیریوں کے ملکیتی مکانات، دکانوں اور زمینوں سمیت جائیدادوں کو ضبط کرنے اور مسمار کرنے کی مہم تیز کر دی ہے۔مقامی باشندوں کے مطابق ان کارروائیوں کو کشمیریوں کو سیاسی وابستگیوں کی بنیاد پر سزا دینے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ نام نہاد انسداد منشیات مہم کو تحریک حق خود ارادیت کو بدنام کرنے اورکشمیریوں کو اجتماعی سزا دینے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔مقامی لوگوں نے صحافیوں کو بتایا کہ جس چیز کو انسداد منشیات مہم کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے وہ مقبوضہ جموں وکشمیرمیں نگرانی سخت کرنے کا ایک ہتھکنڈا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایل جی انتظامیہ کی زیر قیادت مہم کوکشمیری نوجوانوں کو مجرم قراردینے اور پوری نسل کو بدنام کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ املاک کی مسماری اور اثاثوں پر قبضہ منظم طریقے سے کشمیری معاشرے کی معاشی بنیادوں کو کمزور کر رہے ہیں۔ مقامی لوگ اسے بھارتی حکومت کی کشمیر دشمن پالیسیوں کا حصہ قراردیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت کی پالیسیوں نے نہ صرف لوگوں کو معاشی طورپر کمزور بلکہ بہت سے کشمیریوں کو بے گھر کر دیا ہے۔بی جے پی حکومت کی ایک اور پالیسی کشمیری پنڈتوں سے متعلق ہے جنہوں نے تین دہائیوں قبل کشمیر چھوڑ دیاتھا اور بعد میں اپنی جائیدادیں مقامی لوگوں کو فروخت کر دیں۔ان میں سے کئی افراد کو اب ایک منظم پالیسی کے تحت کشمیر واپس لایا جا رہا ہے، اور زمینوں پر ان کے دعوﺅں کو بغیر کسی جانچ پڑتال کے تسلیم کیا جا رہا ہے۔ بی جے پی کی زیر قیادت گورنر انتظامیہ پولیس اور دیگر ریاستی ایجنسیوں کے ذریعے کشمیری مسلمانوں پر دباﺅ ڈال رہی ہے کہ وہ خریدی ہوئی زمینیں واپس کریں۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بی جے پی حکومت آر ایس ایس کے ہندوتوا ایجنڈے پر عمل پیرا ہے جس کا مقصد زمینوں پر قبضہ کرنا، مقامی معیشت کو کمزور کرنا اور علاقے میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنا ہے۔
