Input your search keywords and press Enter.

سرینگر : میر واعظ کا کشمیری مسلمانوں کے مذہبی حقوق کی مسلسل پامالی پر اظہار تشویش

سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز ـ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میر واعظ عمر فاروق نے بھارت کی طرف سے کشمیری مسلمانوں کے مذہبی حقوق کی مسلسل پامالی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس مرتبہ بھی عید گاہ سرینگر اور تاریخی جامع مسجد میں عید نما ز ادا نہیں کرنے دی گئی جو انتہائی تکلیف دہ ہے۔

ذرائع کے مطابق میر واعظ نے سرینگر میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی معاشرے کیلئے سب سے خطرناک اور پریشان کن چیز غیر معمولی واقعات کا تواتر کے ساتھ پیش آنا ہے۔انہوں نے کہا کہ جب یہاں کے مسلمانوں کو ہرسال عید کی نماز پڑھنے سے روک دیا جائے ،تو ایک وقت ایسے آئے گا کہ آنے والی نسلیں اسے ایک معمول کی بات سمجھنے لگ جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ عید کی صبح کسی تاریخی مسجد اور عید گاہ کا خاموش رہنما ہرگز کوئی معمولی بات نہیں ہے ۔ میر واعظ نے کہا کہ اسلامی کیلنڈر کے مقدس ترین دنوں میں جامع مسجد کو نمازیوں کے لیے بند کرنا کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی کارروائیوں سے کشمیری مسلمانوں کو اپنی صدیوں پرانی مذہبی روایات سے الگ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔

 

میر واعظ نے کہ مزید ستم ظریقی یہ ہے کہ لوگوں کو اس طرح کی ناانصافیوں کیخلاف آواز اٹھانے کی بھی اجازت حاصل نہیں ہے کیوں کہ پابندیوں ، دھمکیوں ، گرفتاریوں کے ذریعے انہیں خاموش رہنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے مقبوضہ علاقے کی منتخب شدہ نیشنل کانفرنس حکومت کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ کیونکر اس طرح کی مذہبی ناانصافیوں پر خاموش ہے ۔ انہوں نے کہا کہ منتخب حکومت کا بنیادی فرض ہے کہ وہ اس کے خلاف آواز بلند کرے۔ میر واعظ نے کہا کہ خامو شی کے انتہائی دور رس اثرات ہوتے ہیں ، یہ اداروں کو کھوکھلا کر دیتی ہے، لوگ دن بہ دن خود کو بے اختیار سمجھنے لگتے ہیں۔ میر واعظ نے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے کہ وہ کسی قوم کی مذہبی، ثقافتی اور تاریخی شناخت کو دھیرے دھیرے ختم کرنے کے متراد ف ہے۔میرواعظ نے کہاکہ یہ ہمارے بنیادی وجود اور بقا کا معاملہ ہے لہذا ہم سب کو اس پر سنجیدگی سے غور وفکر کرنا ہوگا۔

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *