سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز ـ (سرینگر) غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں بے روزگاری دن بدن بڑھتی جارہی ہے کیونکہ ہر سال کالجوں اور یونیورسٹیوں سے 25,000 طلباءفارغ التحصیل ہوجاتے ہیں لیکن ان میں سے صرف 13 فیصد روزگارحاصل کرپاتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق پیریاڈک لیبر فورس سروے 2023-24کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیرکی افرادی قوت میں گریجویٹوں کی نمائندگی انتہائی کم ہے، جبکہ مجموعی طور پر بے روزگاری کی شرح 6.7 فیصد ہے جو کہ بھارت کی قومی اوسط 3.5 فیصد سے تقریباً دوگنی ہے۔حکام نے بتایا کہ ہزاروں افراد سالانہ پوسٹ گریجویٹ، پروفیشنل اور ٹیکنیکل کورسز مکمل کرتے ہیں لیکن زیادہ تر ڈگری ہولڈرز بے روزگار، کم روزگار، یا ایسی ملازمتوں پر مجبور ہیں جن کے لیے اعلیٰ تعلیم کی ضرورت نہیں ہے۔سرکاری ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ علاقے کے رجسٹرڈ بے روزگاروں میں سے تقریباً 31% گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ ہیں۔ ماہرین اس بحران کی وجہ محدود صنعت کاری، ایک کمزور نجی شعبے کو قرار دیتے ہیں جو کل ملازمتوں کا 3 فیصد سے بھی کم حصہ رکھتا ہے، اور قابلیت اور مارکیٹ کی ضروریات کے درمیان مماثلت نہیں ہے۔مقبوضہ جموں وکشمیر میں رسمی تنخواہ والی ملازمتوں کی کمی کی وجہ سے58سے67فیصد کارکنان زراعت، چھوٹے پرچون اور خاندانی طور پر چلنے والے اداروں میں روزگارکماتے ہیں۔ پڑھی لکھی خواتین کے لیے صورتحال زیادہ سنگین ہے۔ 15سے29 سال کی خواتین میں بے روزگاری 46سے53فیصد کے درمیان ہے، شہری خواتین کی بے روزگاری مردوںکی 4.6فیصد کے مقابلے میں 20سے28فیصد ہے۔بہت سے لوگ مواقع کی کمی کی وجہ سے بلا معاوضہ خاندانی کام تک محدود رہتے ہیں۔ سرکاری محکموں میں 77,000 سے زائد گزیٹڈ اور نان گزیٹڈ آسامیاں خالی پڑی ہیں۔ ماہرین اقتصادیات نے خبردار کیا ہے کہ فوری صنعتی ترقی، نجی سرمایہ کاری اور ہنر مندی کو مارکیٹ سے ہم آہنگ کئے بغیربڑھتی ہوئی تعلیم اور ملازمتوں کے درمیان فرق مزید بڑھے گا۔
