Input your search keywords and press Enter.

انصاف کا عالمی دن مقبوضہ جموں وکشمیرکے مظلوم عوام کے لیے بے معنی

سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز ـ (اسلام آباد) آج جب دنیا بھر میں انصاف کا عالمی دن منایا جا رہا ہے،لیکن بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے عوا کو انصاف سے مسلسل محروم ہیں۔

ذرائع کی طرف سے آج عالمی یوم انصاف کے موقع پر جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جموں و کشمیر کے نہتے اور مظلوم عوام حق خودارادیت کے منصفانہ مطالبے کی وجہ سے بھارتی استعمار کے ظلم و ستم کا شکار ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا کہ کشمیریوں کو بھارت کی جانب سے وحشیانہ مظالم، امتیازی سلوک اور ناانصافی کا سامنا ہے۔بھارتی فوجی، پیراملٹری فورسزاور پولیس اہلکار جنہیں آرمڈاسپیشل پاورزایکٹ جیسے کالے قوانین کے تحت مکمل استثنی ٰحاصل ہے، کشمیریوں کی حق خود ارادیت کی منصفانہ جدوجہد کو دبانے کے لیے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا ارتکاب کر رہے ہیں جو درحقیقت جنگی جرائم ہیں۔کشمیریوں کوانکاناقابل تنسیخ حق خودارادیت دینے کا وعدہ اقوام متحدہ میں بھارت نے ان سے کیاتھا ۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی فوجیوں کی طرف سے قتل عام، جعلی مقابلے، دوران حراست قتل، گرفتاریاں اور ہراساں کرنا ،سیاسی سرگرمیوں پر پابندیوں اور بھارت کے بدنام زمانہ تحقیقاتی ادارے این آئی اے اور ریاستی تحقیقاتی ادارے کی طرف سے گھروں اور املاک پر قبضہ کرنا مقبوضہ جموں وکشمیرمیں روز کا معمول بن چکا ہے۔رپورٹ میں افسوس کا اظہار کیا گیا ہے کہ گائو کدل، چوٹہ بازار، زکورہ، ٹینگ پورہ، خانیار، چھٹی سنگھ پورہ، کپواڑہ، ہندواڑہ، سوپور، بجبہاڑہ، کشتواڑ، ڈوڈہ اور شوپیاں میں قتل عام، شوپیان میں عصمت دری اوردہرے قتل،کٹھوعہ میں کمسن بچی کی عصمت دری اور قتل اور کنن پوش پورہ کے اجتماعی عصمت دری کے متاثرین کو ابھی تک انصاف فراہم نہیں کیا گیاہے۔رپورٹ کے مطابق بھارتی عدلیہ کشمیریوں کے خلاف متعصب ہے اور اس نے کشمیریوں کو کبھی انصاف فراہم نہیں کیا کیونکہ بھارتی عدالتوں نے مقبوضہ جموں وکشمیرمیں جنگی جرائم میں ملوث ایک بھی بھارتی فوجی یا پولیس اہلکار کو سزا نہیں دی۔ بھارتی عدلیہ نے انصاف کے بنیادی تقاضوں کو پورا کیے بغیر کشمیری آزادی پسند رہنمائوں محمد مقبول بٹ اور محمد افضل گورو کو پھانسی کی سزائیں سنائیں جبکہ شیخ عبدالعزیزاور محمد اشرف صحرائی کو محض کشمیری ہونے کی وجہ سے شہید کیاگیا۔رپورٹ میں واضح کیاگیا ہے کہ حریت رہنما مسرت عالم بٹ، شبیر احمد شاہ، محمد یاسین ملک، آسیہ اندرابی، نعیم احمد خان، ناہیدہ نسرین، فہمیدہ صوفی، ایاز محمد اکبر، پیر سیف اللہ، راجہ معراج الدین کلوال، شاہد الاسلام، فاروق احمد ڈار، مشتاق الاسلام، مولوی بشیر احمد، بلال صدیقی، ظفر اکبر بٹ، محمد رفیق گنائی، حیات احمد بٹ، ڈاکٹر محمد قاسم فکتو،ڈاکٹر محمد شفیع شریعتی، غلام قادر بٹ، ڈاکٹر حمید فیاض،فیاض حسین جعفری ، نور محمد فیاض ، محمد یاسین بٹ ، عمر عادل ڈار، انسانی حقوق کے کارکن خرم پرویز اور صحافی عرفان مجید سمیت ہزاروں کشمیری بھارت اور مقبوضہ جموں وکشمیر کی مختلف جیلوں میں مسلسل نظربند ہیں اور انہیں ابھی تک انصاف نہیں مل سکا۔

ادھر کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید منہاس سرینگر میں جاری بیان میں کشمیری عوام کو انصاف سے محروم رکھنے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا پئکہ جموں و کشمیر کے لوگ اپنی ہی سرزمین پر بھارتی مظالم کا سامنا کر رہے ہیں لیکن استصواب رائے کی تحریک کے اپنے جائز مطالبے کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے پرعزم ہیں۔

کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں وکشمیر شاخ کے رہنمائوں نے عالمی برادری پر زوردیاہے کہ وہ مظلوم کشمیری عوام کو انصاف کی فراہمی کے لیے کردار ادا کرے اور عالمی طاقتوں کو جنوبی ایشیا میں پائیدارامن کے لیے فیصلہ کن اقدامات کرنے چاہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام گزشتہ 78 سال سے اپنی آزادی، سیاسی، سماجی، مذہبی اور بنیادی انسانی حقوق کے لیے دنیا سے انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *