سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز ـ جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 62ویں اجلاس کے موقع پر منعقدہ ایک سیمینار کے مقررین نے بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق “انسانی حقوق اور قیام امن” کے عنوان سے سیمینار کا انعقاد کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز (کے آئی آئی آر) اور ورلڈ مسلم کانگریس (ڈبیلیو ایم سی) نے مشترکہ طور پر کیا تھا اور اس میں سفارت کاروں، انسانی حقوق کے محافظوں، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور بین الاقوامی مبصرین شریک تھے۔ مقررین نے کہا کہ ایک طرف ظلم و ستم کا دور دورہ ہو اور پھر امن کی توقع بھی رکھی جائے، یہ ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پائیدار امن کے لیے فوجی مظالم کا خاتمہ، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے مرتکب اہلکاروں کے لیے جوابدہی اور جموں و کشمیر کے لوگوں کے حق خودارادیت کے استعمال کے ذریعے اپنے سیاسی مستقبل کا تعین کرنے کے ناقابل تنسیخ حق کے احترام کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مقبوضہ علاقے میں شہریوں کے خلاف فوجی طاقت کے استعمال کو فوری طور پر روکنے، تمام کشمیری سیاسی رہنمائوں کو رہا کرنے اور بات چیت اور سول سوسائٹی کی شمولیت کے لیے بامعنی جگہ پیدا کرنے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انصاف، احتساب اور انسانی وقار کسی بھی قابل اعتماد اور پائیدار امن عمل کے لیے ضروری ہیں۔
سیمینار کے بعد منتظمین کی طرف سے جاری ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خاتمے اور لوگوں کے حق خودارادیت کو تسلیم کیے بغیر قیام امن کی کوششیں سطحی اور غیر پائیدار ہون گی۔ سیمینار کی نظامت “کے آئی آئی آر” کے چیئرمین اور ڈبلیو ایم سی کے نمائندے الطاف حسین وانی نے کی۔ مقررین میں پارس ظفر، ایڈووکیٹ پرویز احمد شاہ، ڈاکٹر راجا سجاد خان، رولنارڈ برون اور ڈاکٹر سائرہ شاہ شامل تھے۔
