Input your search keywords and press Enter.

راجوری میں اسکول کے بچے اپنی جانوں پر کھیل کر ندی عبور کرنے پر مجبور

سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز ـ جموں: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں ترقی اورخوشحالی کے بلندو بانگ دعوﺅں کے باوجود راجوری کے علاقے کوٹ دھرا، وارڈ نمبر 9 میں اسکول کے بچے روزانہ اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر ندی عبور کرنے پر مجبور ہیں کیونکہ قابض حکام نے پل کا منصوبہ ادھورا چھوڑ دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق تقریباً چار سے چھ وارڈزکے بچے سکولوں اور کالجوں تک پہنچنے کے لیے کاس ندی کے پل پر انحصار کرتے ہیں۔ پل کے صرف ستون اور سیڑھیاںتعمیرکی گئی ہیں اور سلیب نہیں ڈالی گئی جس کی وجہ سے طلباء، بزرگ افراد اور دیگر رہائشیوں کے پاس پانی میں سے گزرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔مون سون کے دوران ندی میں اچانک پانی کی سطح بڑھ جاتی ہے جو اسے موت کے جال میں تبدیل کر دیتی ہے۔ علاقے سے روزانہ گزرنے والے ریسرچ اسکالر سرفراز بخاری نے کہاکہ موسلا دھار بارش کے دوران ندی میں پانی کا بہاﺅ ب©ڑھ جاتا ہے جس سے کسی بھی وقت بڑے حادثے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ زیادہ تر بچے معاشی طور پر کمزور خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں جن کا کوئی متبادل راستہ نہیں ہے۔ سابق سرپنچ سکینہ اختر نے بتایا کہ قبائلی سب پلان کے تحت 20 لاکھ روپے منظور کیے گئے تھے اور کام ایک ٹھیکیدار کو الاٹ کیا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ صرف ستون اور سیڑھیاں تعمیر کی گئیں جبکہ پل کا فرش/سلیب نامکمل ہے۔ تعمیراتی کام درمیان میں بند ہونے کے بعد اس مسئلے پر کوئی سنجیدہ توجہ نہیں دی گئی۔ تقریباً 2,000 لوگ متاثر ہوئے ہیں جن میں آٹھ اسکولوں اور کالجوں کے طلباءبھی شامل ہیں۔والدین کا کہنا ہے کہ وہ برسات کے موسم میں مسلسل خوف میں رہتے ہیں۔ بار بار کی درخواستوں کے باوجود حکام کام دوبارہ شروع کرنے میں ناکام رہے۔نامکمل پل کنٹرول لائن کے قریبی علاقوں میں ترقیاتی کاموں میںغفلت کی ایک اور مثال ہے۔

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *