سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز ـ کشمیر کونسل یورپ کے چیئرمین علی رضا سید نے کہا ہے کہ حضرت امام حسین اور ان کے ساتھیوں نے میدان کربلا میں اپنی جانیں نچھاور کر کے ظلم و ستم کے خلاف جدوجہد کی ایک لازوال مثال قائم کی۔ ذرائع کے مطابق علی رضا سید نے برسلز سے جاری اپنے ایک بیان میں نے کہا کہ امام حسین علیہ السلام کی عظیم قربانی کا مقصد حق و باطل کے درمیان ایک واضح خط کھینچنا تھا جو رہتی دنیا کے لیے ایک عظم درس ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوم عاشورا دس محرم الحرام تاریخِ عالم کا ایک عظیم اور دردناک لمحہ ہے جب صحرائے کربلا میں نبی کریم کے نواسے، امام حسین علیہ السلام اور آپ کے اہلِ بیت و اصحاب نے ظالم حکمران کیخلاف بے مثال قربانی دے کر اسلام کی تعلیمات کو تحریف و تباہ ہونے سے بچایا۔ انہوں نے کہا کہ امام حسین کی جدوجہد کا بنیادی مقصد وقت کے ظالم و فاسق حکمران یزید کے سامنے سرِ تسلیم خم نہ کرنا تھا، جو دینِ اسلام کی تعلیمات کو مسخ کر رہا تھا۔ یزید اور اس کے حواریوں نے امام حسین علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں پر ظلم کی انتہائی کی مگر امام حسین علیہ السلام صبر و استقامت کا مظاہرہ کر کے سرخرو ہو گئے۔
علی رضا سید نے حسینیت کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ حسینیت سے مراد وہ اعلی انسانی، اخلاقی اور اسلامی اقدار ہیں جن کی نمائندگی حضرت امام حسین علیہ السلام نے کی۔ یعنی انسانیت، عدل اور اعلی اخلاقی معیارات کی بقا کے لیے اپنی جان تک قربان کر دینا حسینیت ہے۔ علی رضا سید نے کہا کہ یزید نے اپنے اقتدار اور مفادات کی خاطر ہر اخلاقی اور مذہبی حد پامال کی اور ظلم و بربریت کے ذریعے اپنی حکومت کو برقرار رکھنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ نواسہ رسول نے انسان کی آنے والی تمام نسلوں کو یہ پیغام دیا کہ انہیں کسی صورت میں باطل کے آگے جھکنا نہیں چاہیے، چاہے اس قیام کی قیمت جان کی قربانی ہی کیوں نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ آج مقبوضہ کشمیر کے عوام امام حسین علیہ السلام کی قربانی سے درس حاصل کر کے ظم و ستم کے خلاف ڈٹے ہوئے ہیں اور ایک دن انہیں بھارت کے چنگل سے ضرور آزادی ملے گی۔
