سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز ـ کشمیری نمائندوں نے جنیوا میں اقوام متحدہ کے دفتر کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ جموں و کشمیر کے حوالے سے اپنی پاس کردہ قراردادوں پر عملدرآمد کرائے۔ ذرائع کے مطابق احتجاجی مظاہرے کے مقررین نے کہا کہ بھارت نے گزشتہ 78 برس سے جموں و کشمیر کے ایک بڑے حصے پر کشمیریوں کی مرضی کے خلاف قبضہ جما رکھا ہے اور وہ حق خودارادیت کے مطالبے کی پاداش میں کشمیریوں پر مظالم کے پہاڑ توڑ رہا ہے۔ انہوں نے عالمی ادارے کی سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ جموں کشمیر کے بارے میں اپنی قراردادوں پر عملدرآمد کیلئے بھارت پر دباﺅ ڈالے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی بھارتی حکومت مقبوضہ علاقے میں ہندو انتہا پسند ایجنڈے پر عمل پیرا ہے اور وہ کشمیریوں کو ان کے گھروں، زمینوں اور دیگر املاک سے محروم کر رہی ہے۔ مقررین نے کہا کہ بھارت کا اصل مقصد مقبوضہ علاقے میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں بدیل کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی فورسز اہلکاروں کو کالے قانون آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ کے تحت بے لگام اختیارات حاصل ہیں اور انہوں نے جبر و استبداد کی وحشیانہ کارروائی کے ذریعے کشمیریوں کا جینا دوبھر کر رکھا ہے۔ احتجاجی مظاہرے سے الطاف حسین وانی، سید فیض نقشبندی، ایڈووکیٹ پرویز احمد شاہ، ڈاکٹر راجہ سجاد لطیف، ڈاکٹر ولید رسول، فہیم کیانی، ظفر قریشی، ڈاکٹر سائرہ شاہ، اعجاز احمد اور ایم ایس نائلہ اور دیگر نے خطاب کیا۔ یاد رہے کہ کشمیری وفد اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 62 ویں اجلاس میں شرکت کیلئے جنیوا میں موجود ہے۔
جنیوا، کشمیری وفد کا اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر کے باہر احتجاجی مظاہرہ
