Input your search keywords and press Enter.

کسی کا مینڈیٹ لیکر نہیں، درد دل کیساتھ آزاد کشمیر کا مسئلہ حل کرنا چاہتے ہیں، حافظ نعیم

سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز ـ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کی دعوت پر جموں و کشمیر کے اہل دانش کی اسلام آباد میں مجلس مشاورت منعقد ہوئی، جس میں جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے اہل دانش، ریٹائرڈ سفارتکاروں، بیوروکریٹس اور دیگر نمایاں شخصیات نے شرکت کی۔ مشاورتی نشست میں سابق صدر آزاد کشمیر و سفارتکار سردار مسعود احمد خان، امیر جماعت اسلامی آزاد کشمیر ڈاکٹر محمد مشتاق خان، سابق امیر جماعت اسلامی آزاد کشمیر رشید احمد ترابی، حریت کانفرنس کے کنوینئر غلام محمد صفی، سابق سفارتکار سید اشتیاق اندرابی، جموں و کشمیر کمیشن برائے انسانی حقوق کے چیئرمین ڈاکٹر نذیر گیلانی، شہید مقبول بٹ کے صاحبزادے جاوید مقبول بٹ، آزاد کشمیر یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر کلیم عباسی، سابق وزیر آزاد کشمیر فرزانہ یعقوب، سابق ایڈیشنل آئی جی پولیس آزاد کشمیر فہیم عباسی، سابق سیکرٹری کشمیر خواجہ سلیم بسمل، بریگیڈیئر(ر) الطاف احمد، سابق ایڈیشنل سیکرٹری سید سلیم گردیزی، ڈپٹی سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان فراست شاہ اور سیکرٹری اطلاعات جماعت اسلامی پاکستان شکیل احمد ترابی بھی شریک ہوئے۔

 

شرکاء نے آزاد کشمیر کی صورتحال پر حافظ نعیم الرحمان کی کوششوں اور کردار کو خراج تحسین پیش کیا۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ آزاد کشمیر کی ابتر صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے سیاسی قیادت اور حکومتی ذمہ داران سے رابطے کیے، کمیٹی لانگ مارچ پر بضد تھی مگر ہماری درخواست پر انہوں نے مارچ روک دیا اور اب بات چیت پر تیار ہیں، حکومت کا خیال ہے کہ وہ کمیٹی کو کمزور کر دے گی، لیکن اس ذہنیت کے ساتھ آگے نہیں بڑھا جا سکتا۔ امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ وہ کسی کا مینڈیٹ لے کر نہیں بلکہ دردِ دل کے ساتھ اس اہم مسئلے کے حل کے لیے آگے بڑھ رہے ہیں، مسئلے کے مستقل حل کے لیے ہمیں عوامی اور دانشور طبقے کی بھرپور حمایت کی ضرورت ہے۔

 

ایکشن کمیٹی کی جانب سے کہا گیا کہ امیر جماعت اسلامی اور ان کی کمیٹی کی کوششوں سے ایکشن کمیٹی نے لانگ مارچ آگے نہیں بڑھایا، حکومت پاکستان اگر مذاکرات کرے تو ہم اپنے مطالبات پر نظرثانی کر سکتے ہیں، گیند حکومت کی کورٹ میں ہے، وقت ضائع کیے بغیر مذاکرات کا عمل شروع کیا جائے۔ مجلس مشاورت نے کہا کہ حکومت پاکستان اور متعلقہ ادارے صورتحال کی سنگینی کا ادراک کریں، مزید وقت ضائع نہ کیا جائے، شرکا نے آزاد کشمیر میں اشیاء خورونوش اورادویات کی ترسیل یقینی بنانے اور انٹرنیٹ کی بندش ختم کرنے کا مطالبہ کیا اور مزید اہم افراد کو شامل کر کے ایک مشترکہ جرگہ تشکیل دینے کی تجویز دی۔ حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جرگے کی تشکیل کی تجویز سے اتفاق کرتے ہیں، اعلان ایک دو روز کی مزید کوششوں کے بعد کریں گے۔

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *