Input your search keywords and press Enter.

قابض حکام نے مولانا مسرور عباس انصاری کو سرینگر میں پریس کانفرنس کرنے سے روک دیا

سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز ـ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنما اور ممتاز شیعہ عالمِ مولانا مسرور عباس انصاری نے قابض حکام کے دوہرے معیار کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس نے انہیں سرینگر کے علاقے ایچ ایم ٹی میں واقع اپنی رہائش گاہ پر طے شدہ پریس کانفرنس کرنے سے روک دیا۔ ذرائع کے مطابق بھارتی پولیس نے مولانا انصاری کی رہائش گاہ کی طرف جانے والی گلی کی ناکہ بندی کر دی اور صحافیوں کو مقررہ مقام تک پہنچنے کی اجازت نہیں دی، جس کے باعث طے شدہ پریس کانفرنس منعقد نہ ہو سکی۔ بعد ازاں ایکس پر جاری ایک بیان میں مولانا مسرور عباس انصاری نے کہا کہ جہاں ایک جانب جموں و کشمیر پیپلز کانفرنس کے ایک رہنما کو اپنے حامیوں کے ہمراہ پولیس رکاوٹیں عبور کر کے ہردہ پنزو جانے کی اجازت دی گئی اور میڈیا کے سامنے اشتعال انگیز اور غیر ذمہ دارانہ بیان دینے کی کھلی چھوٹ دی گئی، وہیں انہیں اپنا موفف پرامن انداز میں عوام کے سامنے رکھنے اور حقائق بیان کرنے کا بنیادی جمہوری حق بھی نہیں دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک شخص کو شیعہ برادری کے داخلی معاملات میں مداخلت کی کھلی چھوٹ دی گئی۔ مولانا مسرور عباس انصاری نے اس صورتحال کو واضح دوہرا معیار قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکام کا یہ طرزِ عمل ان کی غیر جانبداری پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کچھ افراد کو اشتعال انگیزی اور کشیدگی پیدا کرنے کی اجازت دی جائے جبکہ دوسروں کو اپنا موقف پرامن طریقے سے پیش کرنے کے جمہوری حق سے محروم رکھا جائے، تو اس سے قانون کی حکمرانی اور تمام شہریوں کے ساتھ یکساں سلوک کے اصول پر عوام کا اعتماد مجروح ہوتا ہے۔

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *