Input your search keywords and press Enter.

قابض حکام نے سرینگر میں کروڑوں روپے مالیت کی جائیدادیں ضبط کرلیں

سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز ـ (سرینگر)غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں بھارتی پولیس نے سرینگرشہر میں تین کشمیریوں کی غیر منقولہ جائیدادیں اور ایک گاڑی ضبط کر لی ہے جن کی قیمت 5.8کروڑ روپے ہے ۔

ذرائع کے مطابق پولیس نے یہ کارروائی سرینگر کے علاقے خانیار میں نام نہاد انسداد منشیات قانون کے تحت کی ہے اوردعویٰ کیا کہ جائیدادیں منشیات کی اسمگلنگ سے حاصل کی گئی ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ بے گناہ کشمیریوں کی جائیدادوں پر قبضے کے لئے اکثر اس طرح کے الزامات لگائے جاتے ہیں۔ضبط کی گئی جائیدادوں میں کولی پورہ خانیار میں ایک دو منزلہ مکان اور آٹھ دکانیں شامل ہیں جن کا تعلق نذیر احمد میر عرف نذیر لشکری ہے، ان کی قیمت 3.2 کروڑ روپے ہے۔ مسکین باغ میں زمین، ایک عارضی ڈھانچہ اور ایک گاڑی ضبط کی گئی جس کا تعلق گلزار احمد میر سے ہے اوراس کی قیمت 1.8 کروڑ روپے ہے ،جبکہ لون محلہ نوپورہ خانیار میں زاہد منظور راتھر کا ایک منزلہ مکان ضبط کیاگیاہے جس کی قیمت 80 لاکھ روپے ہے۔ قابض حکام نے بتایا کہ یہ اقدام لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی طرف سے 11 اپریل کو شروع کی گئی 100 روزہ انسداد منشیات مہم کا حصہ ہے۔ان کارروائیوں کا مقصد ایک طرف تحریک آزادی کشمیر کو بدنام کرنا اور دوسری طرف انسداد منشیات کی آڑ میں جائیدادوں پر قبضہ کرنا ہے۔

دریں اثناءضلع اودھم پور میں پولیس نے ریہم بل پولیس اسٹیشن میں درج ایک کیس کے سلسلے میں اکرم آباد ڈوڈہ کے جاوید احمد وانی کی 71 لاکھ روپے کی جائیداد ضبط کر لی ہے۔ اسی طرح کی ایک کارروائی میں قابض حکام نے سوپور میں ایک آزادی پسند کارکن کی زمین ضبط کر لی۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ بھارتی حکام مختلف بہانوں سے کشمیریوں کی جائیدادوں پر قبضے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *