سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز:(سری نگر) بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں 1990 میں آج کے دن ضلع گاندربل میں بھارتی پیرا ملٹری بارڈر سیکورٹی فورس( بی ایس ایف) اہلکاروں کے ہاتھوں شہید ہونے والے 15بے گناہ کشمیریوں کے اہلخانہ طویل عرصہ گزرنے کے باجود آج بھی انصاف کے منتظر ہیں۔
ذرائع کے مطابق بھارتی بی ایس ایف اہلکاروں نے ضلع گاندر بل کے علاقے کنگن میں بغیر کسی اشتعال کے مسافر بس پر فائرنگ کی تھی اور اسے آگ لگا دی تھی جس کے نتیجے میں انجینئر طارق الاسلام، غلام محمد وانی، فاروق احمد لون اور بس ڈرائیور اور کنڈیکٹر سمیت 15 افراد شہید جبکہ ایک درجن افراد زخمی ہو گئے تھے۔
اس گھناونے جرم کے مرتکب قابض بھارتی اہلکاروں کو کسی قسم کی کوئی سزا نہیں دی گئی کیونکہ انہیں کالے قانون آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ کے تحت نہتے کشمیریوں کے قتل کی کھلی چھٹی حاصل ہے۔
ایک عینی شاہدین نے ”کے ایم ایس“ کو بتایا کہ کو شام کے وقت بی ایس ایف اہلکاروں نے سونمرگ سے کنگن جانے والی بس کو روک کر اس پر فائرنگ کی اور پھر اسے جلا کر راکھ کر دیا۔ متاثرہ خاندان ابھی تک انصاف کے منتظر ہیں۔ عینی شاہدین نے کہا کہ بھارتی بارڈر سیکورٹی فورس اہلکاروں نے بس کو روکا اور بلا وجہ مسافروں پر فائرنگ کی۔
