Input your search keywords and press Enter.

انجینئر رشید کا کشمیری لاپتہ افراد اور نظر بندوں کیلئے انصاف کا مطالبہ

سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم ـ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے بارہمولہ حلقے سے بھارتی پارلیمنٹ کے رکن انجینئر رشید نے کہا کہ مسلسل قید انہیں علاقے کے لوگوں کے لیے آواز اٹھانے سے نہیں روک سکتی ۔

ذرائع کے مطابق انجینئر رشید نے بھارتی پارلیمنٹ کے ایوان زیرین لوک سبھا میں آج خطاب کرتے ہوئے مقبوضہ جموںوکشمیر کے بارے میں کئی مسائل اٹھائے جن میں حد بندی کی مشق، خواتین کے ریزرویشن بل، کشمیری سیاسی قیدیوں کی رہائی، 1990 کی دہائی سے لاپتہ افراد کے اہلخانہ کی حالت زار اور کشمیری پنڈتوں کی مقبوضہ وادی کشمیر میں واپسی شامل ہیں۔انہوں نے 7 جولائی 1993 کو بھارتی فوج کے ہاتھوں گرفتار ہونے والے اپنی ایک رشتہ دار خانون کے شوہر عبدالرشید وانی کے کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کئی دہائیا ں بیت گئیں لیکن ان کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے کہ وہ کہا ں اور کس حال میں ہیں۔انہوں نے ضلع بارہمولہ میں پیش آنے والے ایک اور واقعہ کا بھی حوالہ دیا، جہاں ایک خاتون نے اپنے ایک بیٹے اور بہو کو عین شادی والے روز بارودی سرنگ کے دھماکے میں کھو دیا۔انہوںنے کہا کہ ایسے معاملات میں احتساب اور انصاف پر سوالیہ نشان ہے۔انجینئر رشید نے کنٹرول لائن کے دونوں طرف منقسم خاندانوں کے بارے میں بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ ہزاروں مائیں اور بہنیں اپنے پیاروں سے جدا ہیں جنہیں ایک دوسرے کے ساتھ ملنے کی اجازت ہونی چاہیے۔اانجینئر رشید اپنے بیمار والد کے بارے میں بات کرتے ہوئے جذباتی ہو گئے جو گزشتہ 20 دنوں سے سرینگر کے ایک ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *