Input your search keywords and press Enter.

مقبوضہ جموں وکشمیر میں مقامی لوگوں کے لئے رکاوٹیں کھڑی جبکہ بھارتی شہریوں کو سہولیات فراہم کی جارہی ہے

سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز (سرینگر) : غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں مقامی ریڑھی بانوں اور چھوٹے تاجروں کو اپنے ہی وطن میں معاشی مشکلات اور روزگار کے عدم تحفظ کا سامنا ہے، جبکہ بھارت کے مختلف علاقوں سے آنے والے افراد شہروں میں سڑکوں کے کنارے کاروبار قائم کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق مقبوضہ علاقے سے باہر کے لوگ جموں میں بڑی تعداد میں ریڑھیاں اور اسٹال لگا رہے ہیں جبکہ مقامی ریڑھی بانوں کو اپنے ہی شہر میں روزی کمانے کے لیے معمولی سی جگہ حاصل کرنے میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔مقامی رہائشیوں اور چھوٹے کاروبار کرنے والوں نے بڑھتی ہوئی مسابقت اور کاروبار کے لیے موزوں جگہ حاصل کرنے میں مشکلات کے ساتھ ساتھ آمدنی میں عدم استحکام پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بی جے پی حکومت نے دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد دعوی کیا تھا کہ غیر مقامی افراد کے لیے متنازعہ خطے کو کھولنے سے سرمایہ کاری، روزگار، سیاحت اور معاشی استحکام کو فروغ ملے گا۔ تاہم مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ انہیں اب بھی مساوی معاشی مواقع کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔ اس سے ترقی اور سیاحت میں اضافے کے دعووں اور ر مقامی باشندوں، مزدوروں اور چھوٹے ریڑھی بانوں کو درپیش مشکلات کے درمیان واضح فرق ظاہر ہوتا ہے۔

مقامی لوگوں نے کہا ترقی کو صرف سرمایہ کاری کے اعداد و شمار یا سیاحت کی تعداد سے نہیں ناپا جانا چاہیے۔ اسے اس بات سے بھی جانچا جانا چاہیے کہ آیا ایک عام مقامی ریڑھی بان اپنے ہی شہر میں باعزت روزگار کمانے کا منصفانہ موقع حاصل کر سکتا ہے یا نہیں۔جموں میں ایک احتجاج کے دوران ایک ریڑھی بان نے کہا جو لوگ دفعہ370 اور 35A کی منسوخی کے بعد مٹھائیاں بانٹ کر جشن منا رہے تھے کیا وہ آج جموں کے ریڑھی بان کی تکلیف اور مشکلات کو سمجھ سکتے ہیں؟ بھارتی ریاستوں سے لوگ یہاں آ کر سڑکوں کے کنارے اسٹال لگا رہے ہیں، جبکہ جموں کا مقامی باشندہ اپنے ہی شہر میں روزی کمانے کے لیے معمولی سی جگہ حاصل کرنے کے لیے بھی جدوجہد کر رہا ہے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ آیا جموں شہر میں مقامی لوگوں کو منصفانہ معاشی مواقع حاصل ہیں۔

جموں و کشمیر کی سول سوسائٹی آبادیاتی تبدیلیوں اور 2019میں بھارتی حکومت کی جانب سے دفعہ370 اور35A کی منسوخی کے بعد مقامی باشندوں کو روزگار اور معاشی استحکام کے حصول میں درپیش مشکلات کی جانب توجہ دلائی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت نے ام اقدامات کو سرمایہ کاری اور استحکام کو فروغ دینے کا ذریعہ قرار دیا تھا۔

اسی طرح کی تشویش وادی کشمیر سے بھی سامنے آ رہی ہے جہاں مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ 2019 کے بعد کی تبدیلیوں نے وسائل اور معاشی مواقع پر ان کے اختیار کو کمزور کیا ہے، جبکہ باہر سے آنے والے افراد مقامی منڈیوں میں تیزی سے داخل ہو رہے ہیں۔سرینگر میں غیر مقامی ریڑھی بانوں نے لال چوک اور اس کے گردونواح میںریڑھیاں اور کاروبار قائم کر لیے ہیں، جبکہ مقامی ریڑھی بانوں کا کہنا ہے کہ انہیں اجازت نامے یا مناسب جگہ حاصل کرنے میں پابندیوں اور رکاوٹوں کا سامنا ہے۔مقامی تاجروں نے سوال اٹھایا ہے کہ انہیں اپنے ہی شہر میں چھوٹے کاروبار قائم کرنے میں مشکلات کا سامنا کیوں ہے جبکہ باہر سے آنے والے افراد کو اہم تجارتی علاقوں میں کاروبار کرنے کی اجازت مل رہی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ترقی کے عمل میں مقامی لوگوں کے لیے مساوی مواقع یقینی بنائے جانے چاہئیں اور ان چھوٹے تاجروں کے روزگار کا تحفظ کیا جانا چاہیے جو روایتی طور پر ان منڈیوں پر انحصار کرتے رہے ہیں۔جموں خطے اور وادی کشمیر میں پیدا ہونے والے خدشات 2019 کے بعد متعارف کرائی گئی تبدیلیوں سے متعلق وسیع تر بحث کی عکاسی کرتے ہیں کہ ان تبدیلیوں سے اصل فائدہ کس کو پہنچ رہا ہے اور آیا مقامی باشندوں کو ابھرنے والے معاشی مواقع میں منصفانہ حصہ مل رہا ہے یا نہیں۔ بہت سے چھوٹے ریڑھی بانوں کے لیے یہ جگہ تک رسائی، روزگار کے تحفظ اور اپنے ہی وطن میں باعزت روزی کمانے کے حق کا معاملہ ہے۔

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *