سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز (سرینگر) : غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میر واعظ عمر فاروق نے کہا ہے کہ تنازعہ کشمیر کے حوالے سے ان کے تجربے سے یہ یقین مزید مضبوط ہوگیاہے کہ طویل محاذ آرائی صرف مشکلات کا باعث بنتی ہے اور تنازعات کو حل کرنے کے لئے بالآخر مذاکرات کی میز پر واپس آنا پڑتا ہے۔
ذرائع کے مطابق میر واعظ عمر فاروق نے سرینگر میں متحدہ مجلس علما کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تنازعات سے متاثرہ خطوں میں پائیدار امن صرف انصاف، مکالمے اور سفارت کاری کے ذریعے ہی قائم کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ دنیا بھر میں جنگیں اور جغرافیائی سیاسی کشیدگیاں پھیل رہی ہیں۔میر واعظ نے کہا کہ زمینی حقائق ان دعووں کی نفی کرتے ہیں کہ موجودہ دور جنگ کا دور نہیں ہے، کیونکہ جنوبی ایشیا، مغربی ایشیا، یورپ، یوکرین اور سوڈان سمیت دنیا کے مختلف حصوں میں تنازعات بدستور عدم استحکام اور انسانی مشکلات کا سبب بن رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کشیدگی میں کمی کے لیے سنجیدہ کوششیں جاری رہنی چاہئیں، انہوں نے امید ظاہر کی کہ سفارتی اقدامات مغربی ایشیا میں امن کی بحالی میں مددگار ثابت ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ محاذ آرائی تنازعات حل نہیں کر سکتی اور مشکل مسائل کو بالآخر بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے ہی حل کرنا ہوگا۔
میر واعظ نے نئی دہلی میں برکس سربراہ اجلاس کے موقع پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جموں و کشمیر کے عوام کی جانب سے ایرانی قیادت کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور اس بات کا اعادہ کیا کہ انصاف کے بغیر امن قائم نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے ایران اور کشمیر کے درمیان صدیوں پر محیط تاریخی، ثقافتی، مذہبی اور تہذیبی روابط کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی قیادت نے کشمیر کا دورہ کرنے اور یہاں کے عوام سے ملاقات کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔میر واعظ نے ایرانی وزیر خارجہ کے ذریعے ایرانی صدر کو پہنچائے گئے ایک خط میں خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں تحمل،بات چیت اور سفارت کاری پر زور دیا۔ انہوں نے کہاکہ جنگ مسلمانوں کے درمیان تقسیم کا باعث نہیں بننا چاہیے ، انہوں نے فرقہ وارانہ و سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر اتحاد کی ضرورت پر زور دیا۔
دریں اثناء متحدہ مجلس علما کے اجلاس میں جموں و کشمیر کو درپیش بڑھتے ہوئے سماجی مسائل بالخصوص خودکشی اور منشیات کے استعمال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ میر واعظ نے کہا کہ تنظیم ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مساجد، مدارس، مقامی اداروں اور غیر سرکاری تنظیموں کے درمیان رابطہ کاری کو مزید وسعت دے گی۔انہوں نے کہا کہ متحدہ مجلس علما نے ہر ماہ ایک ضلع کا دورہ کرنے اور مختلف سماجی مسائل کے حوالے سے جامع مساجد اور امام بارگاہوں سے مشترکہ خطابات جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
