سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز (سرینگر) : غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں سول سوسائٹی کے ارکان نے کہا ہے کہ 5اگست 2019 سے مقبوضہ علاقے میں بڑے پیمانے پر فوجیوں کی تعیناتی اور مسلسل کارروائیاں حالات معمول کے مطابق ہونے کے بھارتی دعوے کی قلعی کھول دیتی ہیں۔
ذرائع کے مطابق سول سوسائٹی کے ارکان نے تازہ ترین اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 5اگست 2019سے مقبوضہ جموں وکشمیرمیں بڑے پیمانے پر بھارتی فوج کی موجودگی سکیورٹی نہیں بلکہ قبضے کی ایک مسلسل مہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ دفعہ370 کی منسوخی کے بعد نئی دہلی نے مقبوضہ جموں وکشمیر میں اپنی فوجی موجودگی میں بڑے پیمانے پر اضافہ کیا۔سول سوسائٹی کے ارکان نے کہا کہ موجودہ تخمینے کے مطابق علاقے میں بھارتی فوج کے 3لاکھ 60ہزار اہلکار، راشٹریہ رائفلزکے 65ہزار، سی آر پی ایف کے ایک لاکھ، پولیس کے ایک لاکھ 5 ہزار، بی ایس ایف کے 76 ہزار، بھارتی فضائیہ کے45 ہزار اور دیگر64ہزار اہلکار تعینات ہیں۔ یوں خطے میں تعینات مجموعی فورس کی تعداد 8 لاکھ 15 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ فوجی کارروائیوں کے اثرات انتہائی سنگین ہیں۔ اگست2019 کے بعد سے شہری علاقوں میں 5,071 محاصرے اور تلاشی کی کارروائیاں کی گئیں، 400 جھڑپیں ہوئیں جن میں 40افرادکوجعلی مقابلوں میں شہید کیا گیا، کنٹرول لائن پر 27مرتبہ لوگوں کو لاکر شہید کیاگیا، 1,371جائیدادوں کو ضبط کیاگیا جبکہ 197مکانات مکمل طور پر تباہ اور 76کوجزوی طور پر نقصان پہنچایاگیا۔سول سوسائٹی کے ارکان نے کہا کہ یہ اعداد و شمار مزاحمت کو دبانے کی آڑ میں خوف و ہراس پھیلانے، ماورائے عدالت قتل کرنے اور اجتماعی سزا کی منظم مہم کو ظاہر کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فوجیوں کی غیر معمولی تعداد اور مسلسل کارروائیاں سکیورٹی نہیں بلکہ مسلسل فوجی قبضے کی عکاسی کرتی ہیں جس کا مقصد مزاحمت کو کچلنا اور کشمیریوں کی سیاسی امنگوں کو دبانا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کا معمول کے حالات کا دعوی اس کی اپنی فوجی تعیناتی اور تباہ شدہ گھروں اور جعلی مقابلوں کے بوجھ تلے دم توڑ جاتا ہے۔انہوں نے کہاکہ یہ طرز حکمرانی نہیں بلکہ احتساب سے مبرا فوجی طاقت کے بل پر جابرانہ قبضہ ہے۔
