سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز (سرینگر) :غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں ہائی کورٹ نے سینئر سول جج محمود انور الناصر کو 58 سال کی عمر میں جبری ریٹائر کرنے کا حکم دیا ہے جو اوڑی میں سب جج کے عہدے پر تعینات تھے۔
تفصیلات کے مطابق حکم نامے میں فیصلے کی وجوہات واضح نہیں کی گئیں۔یہ فیصلہ فل کورٹ کے حالیہ اجلاس میں کی گئی سفارش کے بعد کیا گیا۔ مجاز اتھارٹی کی منظوری تک مذکورہ جج سرینگر میں رجسٹرار کے دفتر سے منسلک رہیں گے۔ہائی کورٹ کے سرکاری ریکارڈ کے مطابق محمود انور کے خلاف 2016میں محکمانہ کارروائی شروع کی گئی تھی۔ اس وقت وہ پٹن میں سب جج کے عہدے پر تعینات تھے۔ اس کارروائی کے نتیجے میں انہیں معطل کیا گیا اور سات الزامات کی باقاعدہ انکوائری شروع کی گئی۔
مئی 2022میں ہائی کورٹ کے حکم کے مطابق سات میں سے چھ الزامات ثابت نہیں ہوئے تھے۔ تاہم مجاز اتھارٹی کی اجازت کے بغیر غیر منقولہ جائیداد خریدنے کا ایک الزام ثابت قرار دیا گیا تھا۔ اس کے بعد فل کورٹ نے سزا کے طور پر ایک سالانہ ترقی روکنے کا حکم دیا جس کا اطلاق آئندہ برسوں پر بھی ہونا تھا۔ بعد ازاں انہیں بحال کر دیا گیا۔
جبری ریٹائرمنٹ کے تازہ حکم میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ آیا سابقہ محکمانہ کارروائی کا اس فیصلے سے کوئی تعلق ہے یا اس کے لیے الگ وجوہات زیر غور آئیں۔ حکم نامے میں فیصلے کی وجوہات سامنے نہیں لائی گئیں۔تاہم مقامی سوشل میڈیا صارفین نے محمود انور کو ایک اچھا عدالتی افسر قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں ناجائز دباو قبول نہ کرنے پر قربانی کا بکرا بنایا گیا۔ صارفین کا کہنا ہے کہ بی جے پی کی حکومت نے انہیں زبردستی ریٹائر کیا۔
دریں اثناء بارہمولہ کے سب جج اور اسپیشل موبائل مجسٹریٹ کو اگلے احکامات تک اوڑی کی عدالت کا اضافی چارج سونپ دیا گیا ہے۔ وہ پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج بارہمولہ کے مرتب کردہ روسٹر کے مطابق دونوں مقامات پر عدالتی امور انجام دیں گے۔
