سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز (سرینگر) :غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں ہائی کورٹ نے کشمیری نوجوان قیصر حمید بیگ کی کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت نظر بندی کا حکم کالعدم قرار دے دیا ہے۔
عدالت نے کہا کہ حکم مبہم اور غیر متعلقہ بنیادوں پر جاری کیا گیا تھا۔ اس پر عمل درآمد میں دو سال سے زائد کی غیر واضح تاخیر نے ماضی کی مبینہ سرگرمیوں اور نظر بندی کی موجودہ ضرورت کے درمیان تعلق ختم کر دیا۔جسٹس راجیش سیکری نے یہ فیصلہ قیصر حمید بیگ کی درخواست منظور کرتے ہوئے سنایا۔
درخواست میں ضلع مجسٹریٹ اسلام آبادکے 25جون 2022 کے نظر بندی کے حکم کو چیلنج کیا گیا تھا۔ ہائی کورٹ نے 11ستمبر 2024 کو اس حکم پر عمل درآمد روک دیا تھا۔نظر بندی سے متعلق ریکارڈ کے مطابق سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس اسلام آباد نے الزام لگایا تھا کہ قیصر حمید بیگ کالعدم تنظیم جیش محمد کا اوور گرانڈ ورکرہے۔ اس پر سرگرم عسکریت پسندوں کو پناہ اور نقل و حمل کی سہولت فراہم کرنے کا بھی الزام تھا۔ حکام نے 2021 میں پی ایس اے کے تحت ان کی سابقہ نظر بندی اورامرناتھ یاترا سے قبل سکیورٹی خدشات کو نئی نظر بندی کی وجوہات قرار دیا تھا۔تاہم درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ الزامات مبہم ہیں اور سابقہ واقعات کے بعد ان کی کسی نئی سرگرمی کا ذکر نہیں کیا گیا۔
عدالت نے کہا کہ درخواست گزار 2019 کی واحد ایف آئی آر کے سلسلے میں اسلام آباد کے ایڈیشنل سیشنز جج کی عدالت میں باقاعدگی سے پیش ہوتے رہے، جس کا حکام نے حوالہ دیا تھا۔ہائی کورٹ نے کہاکہ احتیاطی نظر بندی کے لیے ماضی کے طرزِ عمل اور موجودہ ضرورت کے درمیان مضبوط اور فوری تعلق ہونا ضروری ہے۔ عدالت نے کہا کہ دو سال سے زائد کی تاخیر نے اس تعلق کو ختم کر دیا۔عدالت نے قرار دیا کسی بھی زاویے سے دیکھا جائے تو نظربندی کا حکم قانونی طور پر برقرار نہیں رہ سکتا۔ اس کے بعد ہائی کورٹ نے نظر بندی کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے درخواست منظور کر لی۔
