سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز (سرینگر) :غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی نے 27 اکتوبر کو تاریخِ کشمیر کا سیاہ ترین دن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ 1947 میں اسی دن مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی افواج کی آمد نے خطے کی تاریخ میں ایک المناک دور کا آغاز کیا، جس کے تباہ کن اثرات آج بھی مقبوضہ علاقے کے عوام بھگت رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر غلام رسول نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہاکہ تقریباً آٹھ دہائیاں گزرنے کے باوجود مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوجی موجودگی برقرار ہے، جہاں فوجیوں کی تعداد تقریباً دس لاکھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتنی طویل مدت گزرنے کے باوجود کشمیری عوام اپنے حقِ خودارادیت سے محروم ہیں اور ان کی سیاسی آواز کو دبانے کے لیے گرفتاریوں، پابندیوں اور دیگر اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج بھی ہزاروں کشمیری نوجوان، سیاسی کارکن اور حریت پسند قیادت مختلف جیلوں میں نظربند ہے۔ سیاسی رہنماو¿ں اور کارکنوں کی طویل نظربندی نے کشمیری معاشرے کو شدید متاثر کیا ہے۔ ان قیدیوں کے خاندان اپنے پیاروں کی رہائی کے منتظر ہیں، جبکہ بہت سے بچے اپنے والدین کی سرپرستی سے محروم اور خواتین اپنے اہلِ خانہ کی جدائی کا دکھ برداشت کر رہی ہیں۔ یہ صورتِ حال اس بات کی متقاضی ہے کہ عالمی برادری مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق اور سیاسی قیدیوں کے معاملات کی طرف فوری توجہ دے۔
ڈی ایف پی رہنما نے کہا کہ کشمیری عوام کی جدوجہد اپنے بنیادی حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے ہے، جس کے حوالے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں موجود ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ مسئلہ کشمیر کا منصفانہ اور پائیدار حل کشمیری عوام کی آزادانہ رائے اور امنگوں کو تسلیم کیے بغیر ممکن نہیں۔
انہوں نے اقوام متحدہ، عالمی برادری اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتِ حال کا سنجیدگی سے نوٹس لیں، سیاسی قیدیوں اور نظربند نوجوانوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے مو¿ثر اقدامات کریں، قیدیوں کو منصفانہ قانونی کارروائی اور مناسب قانونی سہولتوں کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے آواز بلند کریں اور کشمیری عوام کو ان کا حقِ خودارادیت دلانے کے لیے عملی کردار ادا کریں۔
ڈاکٹر غلام رسول نے کہا کہ 1947 میں بھارتی افواج کی آمد کے فوراً بعد 6 نومبر کو جموں میں قتلِ عام کا واقعہ پیش آیا جس میں ڈھائی لاکھ سے زائد مسلمانوں کی شہادتوں کا ذکر برطانوی اخبارات کے ریکارڈ میں بھی ملتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1988 سے اب تک ایک لاکھ سے زائد کشمیری شہید ہو چکے ہیں۔ یہ قربانیاں کشمیری عوام کی طویل جدوجہد اور ناقابلِ فراموش مشکلات کی گواہی دے رہی ہیں۔
