سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز (جموں ):بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں نئی دلی کے مسلط کردہ لیفٹیننٹ گورنر کے ماتحت انتظامیہ نے مزید 2 کشمیریوںکو جائیداد سے محروم کردیا ہے۔
انتظامیہ نے ضلع ریاسی کے علاقے مہور میں غلام محمد میر نامی شہری کی تین کنال اور چھ مرلہ اراضی غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون ”یو اے پی اے“کے تحت ضبط کر لی۔
پولیس نے دعویٰ کیا کہ غلام محمد میر کی جائیداد اس لیے ضبط کی گئی کیونکہ انکا بیٹا محمد شریف میرآزادی پسند سرگرمیوں میں ملوث اور فی الوقت مفرور ہے۔
دریں اثنا پولیس نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے احکامات پر ضلع کولگام کے علاقے مشی پورہ میں غلام رسول ڈار کی تقریباً 61 لاکھ روپے مالیت کی جائیداد ضبط کی ہے ۔ غلام رسول بھی پہلے ہی جموں خطے کی کوٹ بھلوال جیل میں بند ہے۔
مقامی لوگوں نے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی انتظامیہ کی طرف سے مقبوضہ علاقے میں ایسی کارروائیاں معمول بن چکی ہیں ۔ انتظامیہ بغیر کسی شفاف قانونی کارروائی کے مختلف جھوٹے الزامات پر گھروں ،اراضی ، دکانوں اور دیگر املاک کو ضبط کر رہی ہے۔
یاد رہے کہ مودی حکومت نے اگست 2019میں مقبوضہ جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد کشمیریوں کے گھروں ، زمینوں اور دیگر جائیدادوں کی ضبطی کا سلسلہ تیز کر دیا ہے جس کا مقصد انہیں معاشی طور پر مفلوک الحال بنانا اور ضبط شدہ جائیدادیں غیر کشمیری بھارتی ہندوﺅںکو دیکر علاقے میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنا ہے۔
