سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم ۔ غیرقانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں منتخب حکومت کے سربراہ اور کٹھ پتلی وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے اعتراف کیا ہے کہ علاقے میں حالات معمول پر آنے کے دعوے کھوکھلے ہیں کیونکہ گلمرگ اور پہلگام جیسے بڑے سیاحتی مقامات سکیورٹی کے نام پر مسلسل بند ہیں۔ ذرائع کے مطابق عمر عبداللہ نے گلمرگ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اہم سیاحتی مقامات کی مسلسل بندش کو ناکامی قرار دیا اور کہا کہ اہم سیاحتی مراکز تک رسائی کو محدود کرنا اور علاقے میں حالات معمول پر آنے کے دعوے متضاد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ علاقے میں صورتحال معمول پر آنے کے سرکاری دعوئوں کے باوجود گلمرگ اور پہلگام کا آدھا حصہ بند ہے۔ عمر عبداللہ نے اعتراف کیا کہ سیاحتی مقامات کو بند کرنے یا دوبارہ کھولنے کا اختیار منتخب حکومت کے پاس نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی انتظامیہ نہ تو اس طرح کے فیصلے کرنے پر غور کر رہی ہے اور نہ ہی اس کے پاس اس طرح کے فیصلے کرنے کا اختیار ہے۔ اس سے مقبوضہ علاقے میں نئی دہلی کے زیر کنٹرول مقامی حکومت کے محدود اختیارات کی نشاندہی ہوتی ہے۔
عمر عبداللہ نے کہا اگر یہ میرے اختیار میں ہوتا، تو یہ مقامات دوبارہ کھل چکے ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ منتخب حکومت بنیادی ڈھانچے کی ترقی تک محدود ہے جبکہ روزمرہ کی زندگی اور معیشت پر اثرانداز ہونے والے اہم فیصلے نئی دہلی کے زیر کنٹرول لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی زیرقیادت انتظامیہ لیتی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے سوال اٹھایا کہ سیاحتی مقامات کو کب تک بند رکھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات سیاحت پر منحصر کشمیر کی معیشت کو براہ راست نقصان پہنچاتے ہیں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ سیاحتی مقامات تک رسائی پر مسلسل پابندیاں معمول کے مطابق حالات کے دعوئوں کی نفی کرتی ہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ کے عہدے کے باوجود عمر عبداللہ کا بیان اس حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں حقیقی اختیارات نئی دہلی اور اس کے فوجی حکام کے پاس ہیں اور منتخب حکومت بڑی حد تک علامتی ہے جبکہ حالات معمول کے مطابق ہونے کے دعوے زمینی حقائق کے بالکل برعکس ہیں۔
