سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم ۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں سرکاری ملازمین، پروفیشنلز اور دانشوروں کے خلاف جاری انتقامی کارروائیوں کے دوران قابض انتظامیہ نے کشمیر یونیورسٹی کے ایک اسسٹنٹ پروفیسر کو جبری طور پر معطل کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق کشمیر یونیورسٹی کے ڈپٹی رجسٹرار نے پروفیسر ڈاکٹر الطاف احمد گنائی کو سرینگر کے نگین پولیس اسٹیشن میں ان کے خلاف درج ایک جھوٹے مقدمے کے بعد معطل کرنے کا باضابطہ حکم نامہ جاری کیا۔ ڈاکٹر گنائی یونیورسٹی کے شعبہ کشمیر اسٹڈیز میں اسسٹنٹ پروفیسر کی خدمات انجام دے رہے تھے۔معطلی کے دوران اسسٹنٹ پروفیسر کو کشمیر یونیورسٹی کے ڈین ریسرچ کے دفتر رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اسسٹنٹ پروفیسر کی جبری معطلی کے خلاف کشمیریوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ قابض انتظامیہ کی ان انتقامی کارروائیوں کا مقصد کشمیریوں کو اپنی حق پر مبنی جدوجہد آزادی جاری کو روکنا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگست 2019ء میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کے بعد سے کشمیری سرکاری ملازمین خصوصا پروفیشنلز اور دانشوروں کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے۔
مقبوضہ کشمیر، قابض انتظامیہ کا ماہرین تعلیم کے خلاف کریک ڈائون جاری
