سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم ۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں ٹاڈا کی ایک عدالت نے 2020ء میں سرینگرجموں ہائی وے پر بھارتی پیراملٹری سینٹرل ریزرو پولیس فورس پر حملے کے مقدمے میں گرفتار تین کشمیریوں کو 5 برس بعد رہا کر دیا ہے۔ حملے میں دو سی آر پی ایف اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے تھے۔ ذرائع کے مطابق بھارتی پولیس نے 5 اکتوبر 2020ء کو ہائی وے پر ٹینگن، نوگام بائی پاس کے قریب حملے کے الزام میں تین کشمیریوں فیصل احمد گنائی، وسیم احمد گنائی اور شاکر احمد ڈار کو غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون یو اے پی اے کے تحت گرفتار کیا تھا۔ ایڈیشنل سیشن جج ٹاڈا، پوٹاکورٹ سرینگر منجیت رائے نے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے تینوں کشمیریوں کو شواہد کی عدم موجودگی اور پولیس کی طرف سے کوئی سائنسی یا تکنیکی ثبوت اور سی سی ٹی وی فوٹیج پیش نہ کرنے پر رہا کرنے کا حکم جاری کیا۔ فیصلے میں عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ ملزمان کے خلاف الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے، اس لیے تینوں ملزمان کو بری کیا جاتا ہے۔ عدالت نے تمام ملزمان کی فوری رہائی کی ہدایت بھی کی۔ واضح رہے کہ یہ مقبوضہ کشمیر میں جھوٹے اور بے بنیاد الزامات کے تحت برسوں تک کشمیریوں کی غیر قانونی نظربندی اور گرفتاری کی واضح مثال ہے۔ بھارتی قابض فورسز کی طرف سے کشمیریوں کو اپنی حق پر مبنی جدوجہد آزادی جاری رکھنے پر انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بناتے ہوئے جھوٹے الزمات کے تحت گرفتاری ایک معمول کی بات ہے۔
مقبوضہ کشمیر، سی آر پی ایف اہلکاروں پر حملے کے کیس میں 3 کشمیری 5 سال بعد بری
