سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم ـ غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں قابض حکام نے ضلع ڈوڈہ کے مختلف علاقوں میں سخت پابندیاں عائد کر دی ہیں جبکہ عوامی اجتماعات کو روکنے اور بنیادی شہری آزادیوں کو محدود کر نے کے لئے روکاوٹیں کھڑی کردی گئی ہیں۔
میڈیا سورسز کے مطابق مودی حکومت نے بھارتیہ نیا ئے سنہتا کی دفعہ 163 کے تحت ڈوڈہ قصبے کے اہم علاقوں میں جلسے جلسوں، احتجاجی مظاہروں اور عوامی اجتماعات پر دو ماہ کی پابندی عائد کر رکھی ہے۔ اس حکم نامے کے تحت گھنٹہ گھر چوک، ڈیسا روڈ، اکرم آباد، اسپورٹس اسٹیڈیم اور آس پاس کے علاقوں سمیت متعدد مقامات پر پانچ یا اس سے زیادہ افراد کے جمع ہونے پر پابندی ہے۔قابض حکام نے خبردار کیا کہ پابندیوں کی کسی بھی خلاف ورزی پر قانون کی متعلقہ دفعات کے تحت کارروائی کی جائے گی۔ انتظامیہ نے دعویٰ کیا کہ امن عامہ کو برقرار رکھنے، مسافروں کی مشکلات کو دورکرنے اور تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ایسے اقدامات ضروری ہیں۔مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات مقبوضہ علاقے میں پرامن اجتماعات اور اختلاف رائے کو محدود کرنے کی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اس طرح کے احکامات کا بار بار استعمال سیاسی سرگرمیوں اور عوامی تحریک کو دبانے کی کوشش ہے۔ تازہ ترین پابندیاں رکن اسمبلی معراج ملک کی جیل سے رہائی کے بعد بڑے پیمانے پر عوامی اجتماعات کے خدشات کے پیش نظرعائد کی گئیں۔
