سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم ۔ جموں و کشمیر میں ریزرویشن پالیسی کے خلاف طلبہ کا احتجاج ایک بار پھر سیاسی کشیدگی کا مرکز بن گیا ہے۔ اس معاملے پر حریت کانفرنس کے چیئرمین اور کشمیر کے ممتاز مذہبی رہنما میرواعظ عمر فاروق نے مرکز اور مقامی انتظامیہ پر سخت تنقید کی ہے۔ میرواعظ عمر فاروق نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا “کشمیر میں یا کشمیر سے متعلق ہر مسئلے پر حکام کا ڈیفالٹ جواب ہوتا ہے، طاقت کا استعمال، اگرچہ طلبہ کا پُرامن دھرنا ہو جو یکطرفہ ریزرویشن پالیسی کے خلاف احتجاج کر رہے ہوں جو ان کے مستقبل کو خطرے میں ڈال رہی ہے اور انصاف کا مطالبہ کر رہے ہوں”۔ انہوں نے مزید لکھا کہ ہم طلبہ کی حمایت کرنے والے رہنماؤں، سماجی کارکنوں اور کچھ طلبہ قائدین کو نظر بند کئے جانے کی سخت مذمت کرتے ہیں۔
میرواعظ عمر فاروق نے کہا کہ یہ نوجوانوں سے جڑا ایک نہایت اہم مسئلہ ہے، جسے سزا دینے کے بجائے فوری طور پر حل کرنے کی ضرورت ہے، ورنہ یہ معاملہ مزید سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے۔ انہوں نے اس کی ذمہ داری منتخب حکومت پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ اس مسئلے کا حل حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ہریانہ، ہماچل پردیش اور بھارت کے دیگر حصوں میں کشمیریوں کے ساتھ ہونے والی مبینہ ہراسانی پر بھی سنجیدہ توجہ دینے کا مطالبہ کیا۔
واضح رہے کہ طلبہ کی ریزرویشن کا تنازعہ گزشتہ ایک سال سے جاری ہے، جموں و کشمیر میں ریزرویشن قوانین میں ترمیم کے بعد اوپن میرٹ (جنرل کیٹیگری) کا کوٹا سرکاری ملازمتوں اور داخلوں میں 50 فیصد سے کم ہو کر 40 فیصد سے بھی نیچے آ گیا، جبکہ ریزرو کیٹیگریز کا کوٹا 60 فیصد سے زیادہ ہوگیا۔ جنرل کیٹیگری کے طلبہ کا کہنا ہے کہ یہ پالیسی غیر متوازن ہے اور ان کے مستقبل کو بری طرح متاثر کر رہی ہے۔
