سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم ۔ جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ نے رکن پارلیمنٹ آغا سید روح اللہ مہدی اور دیگر قائدین کی نظربندی کا دفاع کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کچھ لوگ کشمیر میں بدامنی پھیلانا چاہتے ہیں جسے برداشت نہیں کیا جائے گا۔ فاروق عبداللہ نے کہا کہ یہ لیڈر جموں و کشمیر میں پیشرفت سے خوش نہیں ہیں۔ انہوں نے بنگلہ دیش میں پُرامن انتخابات اور بھارت کے ساتھ دوستانہ تعلقات کی امید بھی ظاہر کی۔
نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے اتوار کو اپنی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ آغا سید روح اللہ مہدی اور دیگر قائدین کی نظربندی کا دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ کشمیر میں بدامنی پھیلانا چاہتے ہیں جس کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ جنوبی کشمیر کے پہلگام میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے فاروق عبداللہ نے کہا کہ کچھ لیڈر شاید اس حقیقت سے ناخوش ہیں کہ جموں و کشمیر ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ ان لیڈروں سے پوچھیں کہ وہ کیا کرنا چاہتے تھے ہم جتنا کر سکتے ہیں کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ شاید انہیں ریاست کی ترقی پسند نہیں ہے، وہ بدامنی چاہتے ہیں جس کی ہم اجازت نہیں دیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ طلباء کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنے پر کشمیر کے سیاسی رہنماؤں کو نظر بند کر دیا گیا، جو انتہائی تشویشناک ہے۔ بنگلہ دیش کی صورتحال کے حوالے سے جموں و کشمیر کے سابق وزیراعلٰی نے امید ظاہر کی کہ پڑوسی ملک میں پُرامن انتخابات ہوں گے تاکہ نئی حکومت بن سکے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ نئی حکومت بھارت کے ساتھ دوستی کا راستہ اختیار کرے گی۔
واضح رہے کہ جموں و کشمیر انتظامیہ نے آج سرینگر میں ریزرویشن مخالف مظاہروں کو ناکام بناتے ہوئے سیاسی رہنماؤں کو گھروں سے باہر نکلنے پر پابندی لگا دی ہے۔ حکمراں جماعت نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمنٹ آغا سید روح اللہ نے کہا کہ سرینگر میں آج طے شدہ احتجاج سے قبل بڈگام میں ان کی رہائش گاہ کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ آغا سید روح اللہ نے ریزرویشن پالیسی کو معقول بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے سرینگر کے پولو ویو پر واقع شیر کشمیر پارک میں ایک احتجاج اور دھرنا کا اعلان کیا تھا۔ وہ ریزرویشن سمیت دیگر مسائل پر عمر عبداللہ کی حکومت کو گھیرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
