سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم ۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق دیرینہ تنازعہ کشمیر کے پرامن حل کا اپنا مطالبہ دہرایا ہے۔ ذرائع کے مطابق ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی کے ترجمان ایڈووکیٹ ارشد اقبال نے ایک بیان میں بھارت پر زور دیا کہ وہ کشمیریوں کی جائز سیاسی آوازوں کو خاموش کرانے کے لیے اپنے جابرانہ ریاستی ہتھکنڈوں کے استعمال سے گریز کرے۔ انہوں نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات سے مسئلہ کشمیر کو قانونی حیثیت حاصل ہوتی ہے، جسے اس طرح کے اوچھے ہتھکنڈوں کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون کے تحت سیاسی تنظیموں پر پابندی عائد کرنے کئے جانے بعد سیاسی رہنمائوں سے ان کے تنظیمی عہدوں اور پلیٹ فارمز کے استعمال سے زبردستی دستبردار کرایا جانا افسوسناک ہے۔
ارشد اقبال نے کہا کہ دھونس و دبائو، دھمکیوں اور پابندیوں کے ذریعے سیاسی اظہارِ رائے کو دبانے سے تنازعہ نہ صرف شدت اختیار کرے گا بلکہ اس کے پرامن اور جمہوری حل کے امکانات کو بھی نقصان پہنچے گا۔انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت کو جموں و کشمیر کی زمینی حقیقت کو تسلیم اور فوجی طاقت کے استعمال کی پالیسی کو ترک کرنا ہو گا جو کہ بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔ ڈی ایف پی کے ترجمان نے کہا کہ سیاسی رہنمائوں کو مسلسل غیر قانونی نظربندی، سیاسی جماعتوں اور این جی اوز پر پابندیاں اور اختلافِ رائے کو منظم طریقے سے کچلنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ حقیقی عوامی سیاسی تحریکوں کو طاقت کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے مذاکرات، انصاف اور جمہوری و انسانی حقوق کے احترام کے ذریعے تنازعہ کشمیر کے حل کی فوری ضرورت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب تک مسئلہ کشمیر کو اس کے تاریخی تناظر میں حل نہیں کیا جاتا، خطے میں امن و استحکام کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔
