سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم ۔ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمنٹ آغا روح اللہ مہدی نے انتظامیہ کی طرف سے جاری مخصوص انہدامی مہم پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ گزشتہ دو سالوں کے دوران علاقے میں 3 ہزار سے زیادہ رہائشی اور تجارتی ڈھانچوں کو مسمار کیا گیا ہے، جس سے ہزاروں خاندان بے گھر ہوئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق روح اللہ مہدی جموں کے علاقے ٹرانسپورٹ نگر میں صحافی عارف احمد ڈینگ کے منہدم گھر کا دورہ کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کر رہے تھے۔ قابض بھارتی انتظامیہ نے ڈینگ کے گھر کو 27 نومبر کو بلاجواز منہدم کر دیا تھا۔ انہوں نے متاثرہ خاندان کو امداد فراہم کرنے میں ناکامی پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ انہدامی کارروائی کے ذمہ داروں کو طلب کر کے سچ سامنے لانے کی کوشش کر سکتے تھے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ انہوں نے ایک مقامی رہائشی، کلدیپ شرما کا حوالہ دیتے ہوئے، جس نے بے گھر خاندان کو گھر کی تعمیر نو میں مدد کے لیے اپنی پانچ مرلہ اراضی دی ہے، کہا کہ اگر ایک عام شہری ایسا کر سکتا ہے تو حکام وسیع وسائل کے باوجود آگے بڑھنے میں کیوں ناکام رہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی مسماری مہم کو روکنا ضروری ہے، چاہے وہ جموں میں ہو یا وادی کشمیر میں۔ روح اللہ مہدی نے ریزرویشن کے مسائل سے متعلق طلباء کے مطالبات کو حل کرنے میں ناکامی پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سوال کیا کہ ایک منتخب حکومت طلباء کے ساتھ بات چیت کرنے میں کیوں ناکام رہی۔
مقبوضہ کشمیر، روح اللہ مہدی کا انہدامی مہم پر اظہار تشویش
