سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم ـ تفصیلات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں رہبر معظم سید علی خامنہ ای کی شہادت کی خبر کے بعد مقبوضہ جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا جو کہ ابھی تک جاری ہے۔ یکم مارچ کی صبح پلوامہ، بڈگام، بارہمولہ اور دیگر اضلاع سے ہزاروں افراد سنی اور شیعہ کی تفریق کے بغیر سرینگر کے مرکزی تجارتی مرکز لال چوک پہنچے، جہاں انہوں نے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف شدید نعرہ بازی کرتے ہوئے اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا۔
عینی شاہدین کے مطابق کئی مقامات پر بھارتی قابض فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا۔ اس موقع پر خواتین اور بچوں سمیت متعدد افراد کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اس کے باوجود مختلف علاقوں میں احتجاج کا سلسلہ ابھی تک نہیں رکا۔
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم نے نہتے مظاہرین پر بھارتی فورسز کے تشدد کی شدید مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس صورتحال کا فوری نوٹس لے اور کشمیری عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے اقدامات کرے۔
فورم کے ترجمان ڈاکٹر نذر حافی نے اپنے بیان میں کہا کہ بھارت اور اسرائیل ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ ان کے مطابق جس طرح فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم جاری ہیں، اسی طرح بھارتی قابض فورسز بھی مقبوضہ کشمیر میں شہری آبادی کے خلاف سخت اقدامات کر رہی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق سنہ 2019 میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد پہلی مرتبہ لال چوک کے اطراف میں خاردار تاریں بچھا کر پورے علاقے کو سیل کر دیا گیا ہے۔
مظاہرین میں شامل بعض نوجوان لال چوک کے گھنٹہ گھر پر چڑھ گئے اور وہاں انہوں نے اپنے شہید رہبر سید علی خامنہ ای کا ایک بڑا پوسٹر آویزاں کر دیا، جس پر بھارتی فورسز نے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا۔
ادھر مقبوضہ کشمیر میں مظاہرین کو مسلسل حراست میں لینے، کرفیو نافذ کرنے اور نقل و حرکت پر پابندیوں کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں۔
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم کے اراکین کا کہنا ہے کہ کشمیری عوام کو اپنے رہنما کی شہادت پر غم اور سوگ منانے کی اجازت دی جانی چاہیے کیونکہ یہ ان کا بنیادی اور فطری حق ہے۔ انہوں نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ موجودہ صورتحال کا فوری نوٹس لیں۔
