سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم ـ غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میںبھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف (سی ڈی ایس) انیل چوہان نے کنٹرول لائن پرآپریشنل تیاریوں کا جائزہ لیا جس سے مبصرین متنازعہ علاقے میں حالات معمول کے مطابق ہونے کی غلط تصویر پیش کرنے کی بھارتی کوششوں کا حصہ قراردے رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق دورے کے دوران جنرل چوہان کوزمینی صورتحال اور چنار کور کی تیاریوں کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ انہوں نے مبینہ طور پر تیاری اور پیشہ ورانہ مہارت کو برقرار رکھنے پرفورسز کی تعریف کی۔انہیںبارہمولہ میں آپریشنل تیاری میں مربوط ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیزپر ایک پریزنٹیشن دی گئی۔ افسران سے خطاب کرتے ہوئے سی ڈی ایس نے زمینی، فضائی، سائبر اور خلائی شعبوں میں مربوط کارروائی اور مشترکہ تربیت اور طویل مدتی اسٹریٹجک منصوبہ بندی کی ضرورت پر زور دیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ جنرل چوہان نے سول انتظامیہ کے نمائندوں سے بھی بات چیت کی اور علاقائی ترقیاتی اقدامات کا جائزہ لیا۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بیانیے کا مقصد علاقے میں جاری مسلح تحریک، اختلاف رائے کو دبانے اور کشمیریوں کے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو چھپانا ہوتا ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت کا مقبوضہ جموں وکشمیرکے بارے میں جھوٹا بیانیہ بنانے کا ایک طویل ریکارڈ ہے جس میں مقبوضہ علاقے کو پرامن اور سٹریٹجک طور پر مستحکم قراردیاجاتا ہے جبکہ بھاری تعداد میں فوجیوں کی تعیناتی اور شہری آزادیوںپر پابندیاں بدستورجاری ہیں۔مودی حکومت نے خاص طور پرکشمیر کے بارے میں ایک تیار شدہ بیانیے کو آگے بڑھانے کے لیے حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش کی ہے جس میں فوجیوں کی موجودگی اور اعلیٰ سطحی اجلاسوں کومعمول کے اقدامات کے طور پر پیش کیاجاتاہے جبکہ مسلسل بدامنی، مزاحمت اور مقامی آبادی کو درپیش مشکلات کو نظر انداز کیا جاتاہے۔کشمیر بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ایک تنازعہ ہے اور بھارت کی طرف سے کوئی بھی یکطرفہ اقدام اس کی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ کشمیری خطے کی متنازعہ حیثیت کو کمزور کرنے کی تمام کوششوں کے خلاف مزاحمت جاری رکھے ہوئے ہیں اور بھارت کے ترقی یا آپریشنل کارکردگی کے دعوے زمینی حقائق کو تبدیل نہیں کرسکتے۔مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارت اس طرح کے اقدامات سے کشمیریوں کی جائز امنگوں کو پورا کرنے کے بجائے سٹریٹجک پیغام رسانی پر توجہ مرکوز کررہا ہے جبکہ کشمیریوں کو عالمی طور پر تسلیم شدہ حق خودارادیت ابھی تک نہیں دیاگیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی قراردادوں پرعملدرآمد کرائے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ خطے کے بارے میں کوئی بھی دعویٰ بھارت کے گمراہ کن بیانیے کے بجائے حقائق کی عکاسی کرے۔
