سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم ـ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموںوکشمیر میں سول سوسائٹی نے کے ارکان نے علاقے میں صورتحال معمول کے مطابق ہونے کے بھارتی حکومت کے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ زمینی صورتحال ہرگز مستحکم نہیں ہے۔
میڈیا سورسز کے مطابق سول سوسائٹی کے نمائندوں نے سرینگر میں ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ مودی حکومت اور اس کے جانبدار میڈیا کی طرف سے جس بیانیے کو فروغ دیا جا رہا ہے وہ گمراہ کن ہے اور یہ علاقے کے عوام کو درپیش حقائق کی عکاسی نہیں کرتا۔انہوں نے کہا کہ بھارتی فورسز کی طرف سے محاصرے اور تلاشی کی مسلسل کارروائیاں، چھاپے اور بلاجواز گرفتاریاں حالات ٹھیک ہونے کے نئی دلی کے دعووں کی قلعی کھول رہے ہیں ۔
انہوںنے کہا کہ بھارت نے کشمیریوںکے سروںپر دس لاکھ سے زائدفورسزاہلکار بٹھا کرعلاقے میں قبرستان جیسی خاموشی قائم کرکھی ہے اور وہ اس چیز کو امن وامان کی بحالی کا نام دے رہا ہے ۔سول سوسائٹی کے ارکان نے مزید کہا کہ مودی حکومت نے جابرانہ اقدامات، بنیادی آزادیوں پر قدغن لگا کر اور مقامی آبادی میں خوف و ہراس پھیلا کر مقبوضہ علاقے میں گھٹن کا ماحول پیدا کر رکھا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کے پروپیگنڈے کا بنیادی مقصد عالمی برادری کو گمراہ کرنا اور خطے میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال سے توجہ ہٹانا ہے۔بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ تنازعہ کشمیر کو کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کیے بغیر جنوبی ایشیا میں پائیدار امن و استحکام ہرگز ممکن نہیں ہے۔ سول سوسائٹی نے کہا کہ بھارت کا کشمیریوں کے حق خودارادیت سے مسلسل انکار خطے میں پائیدار امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔سول سوسائٹی کے ارکان نے واضح کیا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں امن اسی وقت آسکتا ہے جب بھارت کشمیریوںکے ساتھ اپنے وعدے پورے کر کے انہیں انکا پیدائشی حق، حق خود ارادیت فراہم کرے گا۔
