سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم ـ غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے شوپیان میں دارالعلوم جامعہ سراج العلوم پر چھاپے اور اسے غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھا م کے کالے قانون کے تحت غیر قانونی ادارہ قرار دینے کی شدید مذمت کی ہے۔
ذرائع کے مطابق حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈوکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں بی جے پی کی زیر قیادت قابض انتظامیہ کے اس اقدام کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں مذہبی اور تعلیمی اداروں پر ایک اور کھلا حملہ قرار دیا جس کا مقصد کشمیریوں کی شناخت اور امنگوں کو دبانا ہے۔ترجمان نے کہا کہ کشمیربھارت کا اندرونی معاملہ نہیں بلکہ جنوبی ایشیا میں ایک جوہری فلیش پوائنٹ بنا ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر حل نہ ہونے کی وجہ سے خطے پرہروقت جوہری جنگ کے خطرات منڈلارہے ہیں اور عالمی برادری کوممکنہ تباہ کن جنگ کو روکنے کے لیے فوری مداخلت کرکے مسئلہ کشمیر کو حل کرنا چاہیے۔انہوں نے کہاکہ اقوام متحدہ کو تنازعہ کشمیر کے حل کے لیے فیصلہ کن اقدامات کرنے چاہیے تاکہ جنگ کے خطرات کو کم کیا جاسکے۔حریت ترجمان نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں دیرپا امن کے لیے تنازعہ کشمیر کا منصفانہ اور جامع حل ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہاکہ کشمیریوں کی حالت زار پر دنیا کی خاموشی علاقائی اور عالمی سلامتی کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔ترجمان نے خبردار کیا کہ مقبوضہ علاقے میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی، بنیادی حقوق سے انکار اور مذہبی اداروں پر مسلسل پابندیوں سے کشمیری عوام کا غم وغصہ بڑھ جائے گا اور کنٹرول لائن پر کشیدگی میں اضافہ ہوگا۔پاکستان نے بارہا اس دیرینہ تنازعے کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوںکے مطابق حل کرنے کے لیے بین الاقوامی مداخلت پر زور دیا ہے۔
