سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز ـ (سرینگر) غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں تجزیہ کاروں اور سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اسپیشل آپریشنز گروپ جموں اور بھارت کے نیشنل سکیورٹی گارڈ ز(این ایس جی) کے زیر اہتمام مشترکہ تربیتی مشقیں کشمیریوں کی جائز تحریک آزادی کو دبانے کے لیے بھارت کی مسلسل کوششوں کا حصہ ہیں۔
میڈیا سورسز کے مطابق ہفتہ بھر جاری رہنے والی ان مشقوں میںانسداد دہشت گردی کے طریقوں، یرغمالیوں کو بچانے کی کارروائیوں، ڈرون کے خلاف اقدامات، فائرنگ اور دیگر جنگی تربیت پر توجہ مرکوز کی گئی جس کا مقصد مقبوضہ علاقے میں بھارتی افواج کی آپریشنل صلاحیتوں کو بڑھانا تھا۔تجزیہ کاروں نے کہا کہ اس طرح کی فوجی مشقیں معمول کے مطابق سیکورٹی کو مضبوط کرنے کی آڑ میں کی جاتی ہیں لیکن بنیادی طور پر ان کا مقصد مقبوضہ جموں وکشمیر میں نگرانی کو سخت کرنا، فوجی پہرے کو وسعت دینا اور اختلاف رائے کو کچلنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت تنازعہ کشمیر کو کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کرنے کے بجائے مسلسل ظلم وجبر اور طاقت کے استعمال پر انحصار کرتا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ فوجی تیاریوں میں اضافہ اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال مقبوضہ علاقے میں ظلم وجبر اور خوف ودہشت کی فضا کو مزید تقویت دے گا جہاں کشمیری اپنے حق خودارادیت کا مطالبہ کررہے ہیں۔
