Input your search keywords and press Enter.

مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارتی فورسز کی ظالمانہ کارروائیوں میں تیزی

سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم ـ غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں بھارتی فورسز نے اپنی ظالمانہ کارروائیوں کوتیز کرتے ہوئے وادی کشمیر میں مختلف بہانوں سے چھاپوں، گرفتاریوں اور املاک کو ضبط کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

میڈیا سورسز کے مطابق فورسز اہلکاروں نے جنوبی کشمیر کے ضلع اسلام آباد میں سب سے زیادہ کارروائیاں کیں جہاں 20 کے قریب مقامات پر چھاپے مارے گئے اورتلاشی لی گئی۔ بھارتی فورسزکے اہلکاروںنے اپنی کارروائیوں کے دوران مقامی لوگوں کے گھروںپر دھاوا بول دیا جس سے لوگوں میں خوف وہراس پھیل گیا۔حکام نے ان جائیدادوں کا سروے بھی شروع کیا ہے جو ان کا دعویٰ ہے کہ غیر قانونی طریقوں سے حاصل کی گئیہیں۔ تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ کشمیریوں کی جائیدادوں پر قبضہ کرنا خاص طور پر اگست 2019 کے بعد ،علاقے میں ایک نیا معمول بنچکاہے اوراب تکسینکڑوںجائیدادیں ضبط کی گئی ہیں۔ان کارروائیوں کے دوران کم از کم 12 افراد کوگرفتارکرکے ان کے خلاف مقدمات درج کیے گئے۔ بعد ازاں انہیں جیل منتقل کیاگیا۔کالے قانون کے تحت تقریباً 3.5 کروڑ روپے کی جائیدادیں ضبط کی گئیں۔ سنگم کے علاقے میں کریشبل نورباغ کے رہائشی شکیل احمد گنائی اور فاروق احمد میر کی دو غیر منقولہ جائیدادیں ضبط کی گئی ہیں جن میں دو منزلہ رہائشی مکانات اور ایک ایک کنال اراضی شامل ہے جن کی قیمت بالترتیب 2 کروڑ روپے اور 1.5 کروڑ روپے ہے۔ ناقدین نے اس طرح کے اقدامات کو بے دخلی کی وسیع تر پالیسی کا حصہ قرار دیا۔تجزیہ کاروں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیرمیں املاک کی ضبطی کا مقصد کشمیریوں کے جذبہ آزادی کوکمزور کرنا اور خطے کو بھارت کی ایک نوآبادی بنانا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کشمیریوںسے انتقام لینے کے لئے انہیں زمینوں، جائیدادوں اور روزی روٹی سے محروم کررہی ہے جبکہ مکانات کی مسماری اور بار بار محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں سے لوگوں کو درپیش مشکلات میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔

دریں اثناءضلع شوپیاں میں بھارتی پولیس نے لوگوں کو ڈرانے دھمکانے اورعلاقے میں خوف دہشت کا ماحول پیدا کرنے کے لئے تھانوں اور چوکیوں میں مختلف افراد کی تصاویر اور فہرستیں آویزاں کی ہیں۔مبصرین کا کہنا ہے کہ ان ہتھکنڈوں کے باوجود کشمیری عوام حق خودارادیت کے حصول کے لئے اپنی جدوجہد جاری رکھنے کے لئے پرعزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات سے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو روکانہیں جاسکتا۔

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *