سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز ـ (سرینگر)بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں سابق امیر جماعت اسلامی شیخ غلام حسن طویل علالت کے بعد انتقال کرگئے ہیں ۔میڈیا سورسز کے مطابق شیخ غلام حسن کا تعلق مقبوضہ وادی کشمیر کے ضلع کولگام سے تھا ۔ آپ نے دو مرتبہ امیر جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیرکی حیثیت سے خدمات انجام دیں ۔
دریں اثنا کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموںوکشمیر شاخ کے کنوینر غلام محمد صفی اور سینئر رہنما ﺅں محمد فاروق رحمانی ،محمود احمد ساغر، شمیم شال اور سید فیض نقشبندی نے شیخ غلام حسن کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہارکرتے ہوئے مرحوم کے درجات کی بلندی اور غمزدہ لواحقین کیلئے صبر جمیل کی دعا کی ہے۔انہوں نے کہا کہ مرحوم ایک انتہائی نیک سیرت، خدا ترس اور اعلیٰ اخلاق و کردار کے حامل شخص تھے، جنہوں نے اپنی پوری زندگی دینِ اسلام کی سربلندی اور اصلاحِ معاشرہ کے لیے وقف کیے رکھی۔انہوں نے کہا کہ مرحوم نے مشکل ترین حالات، جبر و استبداد اور دباو¿ کے باوجود حق و صداقت کی آواز کو ہمیشہ بلند رکھا اور تحریکِ آزادی کشمیر کے ساتھ اپنی وابستگی برقراررکھی۔ حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ کے رہنماﺅں نے کہا کہ شیخ غلام حسن کی وفات سے جموں و کشمیر ایک عظیم رہنما اور بے لوث دینی رہنما سے محروم ہو گیا۔
ادھر ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی اور جموں و کشمیر نیشنل فرنٹ نے سرینگر میں اپنے بیانات میں شیخ غلام حسن کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے ان کی وفات کو کشمیری عوام کے لیے ناقابل تلافی نقصان قرار دیا۔انہوں نے سماجی، سیاسی اور فکری شعبوں میں مرحوم کی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی عوام کی فلاح و بہبود اور کشمیر کاز کے لیے وقف کر دی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ شیخ غلام حسن بھارتی جبر کے خلاف ڈٹے رہے اور کشمیری عوام کے حقوق اور امنگوں کے لیے مسلسل آواز بلند کی۔
