سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز ـ (جموں)غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں ہائی کورٹ نے بدنام زمانہ بھارتی تحقیقاتی ادارے این آئی اے کی جانب سے آزادی پسند کارکن سید عرفان احمد کے خلاف درج ایک جھوٹے مقدمے میں ضمانت کی درخواست مسترد کردی ہے۔
میڈیا سورسز کے مطابق جسٹس سندھو شرما اور جسٹس شہزاد عظیم پر مشتمل ہائی کورٹ بنچ نے جموں میں این آئی اے کی خصوصی عدالت کے حکم کو برقرار رکھتے ہوئے این آئی اے ایکٹ کے سیکشن 21 کے تحت دائر اپیل کو مسترد کر دیا۔عدالت نے کہا کہ درخواست گزارنے فروری 2019 میں عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت میں سہولت فراہم کی ہے۔عرفان کو دس دیگر افراد کے ساتھ مبینہ طور پر فنڈز جمع کرنے اور بھارت کے خلاف جنگ چھیڑنے کے الزام میں چارج شیٹ کیا گیا تھا۔ اسے غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون کے تحت الزامات کا سامنا ہے۔ ایک پولیس افسر دیویندر سنگھ کوبھی جنہیں بعد میں ملازمت سے برطرف کر دیا گیا تھا، اس کیس میں شریک ملزمان میں نامزد کیا گیا تھا۔حریت پسندتنظیمیں باربارکہہ رہی ہیں کہ اس طرح کے کیسز مقبوضہ جموں و کشمیر میں آزادی پسند کارکنوں کو کالے قوانین کے ذریعے نشانہ بنانے کی بھارتی پالیسی کا حصہ ہیں۔
بھارتی عدالت نے جموں میں آزادی پسند کارکن کی درخواست ضمانت مسترد کر دی
