سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز ـ (سرینگر)غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی نے اپنے چیئرمین شبیر احمد شاہ کی جموں کی کوٹ بھلوال جیل منتقلی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام ایک ایسے وقت پر کیاگیا جب ان کی صحت تیزی سے بگڑ رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق ڈی ایف پی کے ترجمان ایڈووکیٹ ارشد اقبال نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں اس منتقلی کو سیاسی انتقام کی بدترین مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ متعدد عارضوں میں مبتلا ہونے کے باوجود سینئر کشمیری رہنما کو مسلسل ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ترجمان نے کہا کہ شبیر احمد شاہ کو ضمانت تک رسائی، مناسب علاج اور طبی سہولیات سمیت بنیادی حقوق سے محروم رکھاجا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نظربند رہنما بگڑتی ہوئی صحت کے باوجود مناسب خوراک اور خصوصی طبی امداد سے محروم ہیں۔ ترجمان نے سیاسی قیدیوں سے متعلق بین الاقوامی قوانین اور کنونشنز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شبیر شاہ کو طبی امداد اور قانونی حقوق سے محروم کرنا انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ایڈووکیٹ ارشد اقبال نے بھارتی حکام کو عدلیہ کو نظر انداز کرنے پر بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ شبیر احمد شاہ کے حق میں عدالتی فیصلے اور ان کی رہائی سے متعلق ہدایات کے باوجود حکام ان احکامات پر عمل درآمد کرنے میں ناکام رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نظربندرہنما کو فوری طور پر خصوصی علاج اور مناسب دیکھ بھال کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ شبیر احمد شاہ کو اس مشکل دور میں اپنے اہلخانہ کی مدد اور موجودگی کی ضرورت ہے اور اہلخانہ تک رسائی اور طبی سہولیات سے انکار غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ڈی ایف پی کے ترجمان نے انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ مداخلت کریں اور شبیر احمد شاہ اور بھارت کی مختلف جیلوں میں نظر بند دیگر کشمیریوں کی فوری رہائی میں مدد کریں۔
