Input your search keywords and press Enter.

مقبوضہ جموں وکشمیر کے لوگ خوف میں جبکہ آزادکشمیر کے لوگ بے خوف زندگی جی رہے ہیں: محبوبہ مفتی

سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز ـ (سرینگر) غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے پاکستان اور کشمیریوں کے ساتھ بات چیت پر زوردیتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں لوگ خوف کی زندگی گزار رہے ہیں جبکہ کنٹرول لائن کے اس پار آزاد جموں و کشمیرکے لوگ بے خوف زندگی گزار رہے ہیں۔

میڈیا سورسز کے مطابق محبوبہ مفتی نے سرینگر میں ایک اجتماع سے خطاب کے دوران مقامی لوگوں کے خدشات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ علاقے میں لوگ خوف اور غیر یقینی کی کیفیت میں زندگی گزار رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ خطہ سخت نگرانی اور پبلک سیفٹی ایکٹ (PSA)، غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (UAPA) اورآرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ (AFSPA) جیسے کالے قوانین کے نفاذ کی وجہ سے مسلسل خوف میں رہتا ہے۔انہوں نے مقبوضہ علاقے کا موازنہ کنٹرول لائن کے اس پار آزاد جموں و کشمیر سے کرتے ہوئے کہا کہ وہاں کے لوگ ایسے کالے قوانین سے آزاد ہیں اور شہری علاقوں میں فوج کی بھاری موجودگی نظرنہیں آتی۔ انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر کے باشندے بے خوف رہتے ہیں اوربے خوف سوتے ہیں کیونکہ انہیں کالے قوانین اور خوف کے ماحول کا سامنا نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ آزاد جموں و کشمیر کے لوگ خوشگوار زندگی گزار رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دفعہ370 اور 35A کی غیر قانونی منسوخی کے بعد کشمیری خوف اور دہشت میں زندگی گزارنے پر مجبورہیں۔ محبوبہ مفتی نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی پر زور دیا کہ وہ کشمیری نظربندوں کو رہا کریں، بات چیت شروع کریں اور علاقے میں خوف کی موجودہ فضا کو ختم کرنے میں مدد کریں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اگر وہ واقعی تاریخ بنانا چاہتے ہیں تو انہیں پاکستان کے ساتھ بامعنی مذاکرات کا عمل شروع کرنا چاہیے۔

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *