سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز ـ (سرینگر) غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں ممتاز مذہبی و سیاسی رہنما اور انجمن اوقاف جامع مسجد سرینگر کے بانی میرواعظ مولوی محمد فاروق کی 36ویں برسی کی تقریبات کا آغاز تاریخی جامع مسجد سرینگر میں شاندار مقابلہ حسن قرات سے کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق میر واعظ مولوی محمدفاروق کو نامعلوم حملہ آوروں نے21مئی 1990کونگین سرینگر میں ان کی رہائش گاہ پر شہیدکیا تھا۔کشمیر بھر کے درجنوں اسلامی مدارس اور تعلیمی اداروں کے طلبا نے مقابلے میں حصہ لیا ۔مقابلے میں جیتنے والوں کو انجمن اوقاف کی جانب سے ٹرافیاں اور نقد انعامات سے نوازا گیا جبکہ متعددمخیر حضرات نے بھی نوجوان شرکا کی حوصلہ افزائی کی۔ پروگرام کی صدارت انجمن اوقاف کے چیئرمین میرواعظ عمر فاروق نے کی جنہوں نے اپنے خطاب میں اس طرح کے پروگراموں کے انعقاد کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ان اجتماعات کا مرکزی مقصد نوجوان نسل کا قرآن پاک کی تعلیمات، پیغام اور تفہیم سے تعلق مضبوط کرنا ہے۔میرواعظ عمر فاروق نے جموں و کشمیر میں دینی مدارس اور اسلامی اداروں کی طرف سے قرآنی تعلیم کو فروغ دینے اور مذہبی تعلیم کے تحفظ میں ادا کیے گئے گرانقدر کردار کو بھی سراہا۔اس موقع پر موجود بزرگ مذہبی اسکالرز اور معززین میں مولانا شوکت حسین کینگ، مفتی اعجاز الحسن قاسمی بندی، مفتی نظام الدین ندوی، مولانا قاری محمد اسلم رحیمی، مولانا فیاض احمد قاسمی، مولانا غلام رسول، مفتی غلام رسول سامون، قاری نصیر احمد، مفتی احمد رضا، مفتی عبدالرشید، مفتی احمد رضا، مفتی عبدالرشید،مولانا ایم ایس رحمان شمس اور دیگر شامل تھے۔ پروگرام کا اختتام شہیدملت میر واعظ مولوی محمد فاروق اور جملہ شہدائے کشمیر کے لیے اجتماعی فاتحہ خوانی کے ساتھ ہوا۔اس سے قبل شہدا کے ایصال ثواب اور درجات کی بلندی کے لیے قرآن خوانی کا بھی اہتمام کیا گیا۔
