سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز ـ وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے عوامی ایکشن کمیٹی سے مذاکرات کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے قانون ہاتھ میں لینے پر سخت کارروائی کی وارننگ بھی دے دی۔ نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ ہم عوامی ایکشن کمیٹی سے بات چیت کے لیے راستہ نکال لیں لیکن اگر قانون ہاتھ میں لیا جائے گا تو پھر ریاست آہنی ہاتھوں سے نمٹے گی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست افراتفری کی متحمل نہیں ہو سکتی، احتجاج کا مرحلہ گزر جائے گا لیکن اس کے اثرات اچھے نہیں ہوں گے۔ اس سے پہلے ایک بیان میں آزاد کشمیر کے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دھرنوں، جلاؤ گھیراؤ اور ہنگامہ آرائی کرنے والے عناصر طالبان خارجیوں کے حامی ہیں، آزاد کشمیر میں حالات جس طرف جا رہے تھے، ایکشن کمیٹی پر پابندی لگنا ہی تھی، حقوق کی بات کرنا غلط نہیں لیکن حقوق کی بنیاد پر اپنی ریاست کھڑی کرنا قابل برداشت نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر میں انتشار کا سب سے زیادہ فائدہ بھارت کو ہوتا ہے، ایسے وقت میں بھارت کو ایسا فائدہ پہنچانا آزاد کشمیر اور پاکستان کے مفاد میں نہیں۔
اپوزیشن لیڈر شاہ غلام قادر نے بھی ایکشن کمیٹی پر پابندی کو درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر میں ایکشن کمیٹی نے پہلے بھی 3 بار امن و امان کی صورتحال پیدا کی، ہر بار مذاکرات کے ذریعے حل نکالا گیا، لیکن اس مرتبہ ایکشن کمیٹی مذاکراتی عمل آگے بڑھانے کو تیار نہ تھی۔
