Input your search keywords and press Enter.

بھارتی انفورسمنٹ کیطرف سے گلمرگ کے ہوٹل مالکان کی طلبی، کشمیر کی معیشت کو کمزور کرنے کی کوشش

سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز ـ (سرینگر) بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں بھارت کی تحقیقاتی ایجنسی انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی)کی جانب سے گلمرگ کے نو ممتاز ہوٹل مالکان کو طلب کیے جانے کے بعد مقبوضہ علاقے میں کاروباری حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اس اقدام کو سیاحت پر مبنی کشمیر کی معیشت کو دبا ئومیں لانے کی ایک اور کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق ای ڈی کی جانب سے انسدادِ منی لانڈرنگ قانون (پی ایم ایل اے) کے تحت جاری نوٹسز میں متعلقہ ہوٹل مالکان کو طلب کرتے ہوئے مالی اور جائیداد سے متعلق ریکارڈ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ جن افراد کو طلب کیا گیا ہے ان میں گرینڈ ممتاز اور ریڈیسن گروپ کے مالک مشتاق احمد گنائی عرف چایا، نذیر احمد میر، منظور احمد خان (ہوٹل خلیل پیلس)، عبد الحمید ڈار (ہوٹل ماما پیلس)، سید مسادیق شاہ (ہوٹل رائل پارک)، ابراہیم خان (کولاہوئی گرینز) اور سدف شاہ (ہوٹل الپائن رج) شامل ہیں۔

مشتاق چایا نے کہا ہے کہ انہوں نے تمام مطلوبہ دستاویزات ایجنسی کو فراہم کر دی ہیں تاہم وہ ذاتی طور پر پیش نہیں ہوئے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ کشمیر کے اہم ہوٹل مالکان کو سخت قوانین کے تحت نشانہ بنانا نئی دہلی کی اس پالیسی کا حصہ ہے جس کا مقصد مقامی کاروباری طبقے کو خوفزدہ کرنا اور خطے کی معاشی بنیادوں کو کمزور کرنا ہے۔ ان کے مطابق ای ڈی اور این آئی اے جیسی ایجنسیوں کا بار بار استعمال اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت مقبوضہ علاقے میں فوجی جبر کے ساتھ ساتھ معاشی دباؤ کی حکمت عملی بھی اپنائے ہوئے ہے۔

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *