Input your search keywords and press Enter.

نئی دلی؛ ریاستی حیثیت کی بحالی کے لیے نیشنل کانفرنس کا احتجاج مودی حکومت کے لیے چشم کشا :رتن گپتا

سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز ـ (جموں) غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کے رہنما رتن لال گپتا نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کیلئے بھارتی پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے پہلے دن نئی دلی میں جنتر منتر پر این سی کا احتجاج مودی حکومت کے لیے چشم کشا ہے۔

ذرائع کے مطابق رتن لال گپتا نے جموں میں ایک بیان میں کہا کہ جموں وکشمیر کو پہلے تقسیم کیا گیا اور بعد میں اسے یونین کے زیر انتظام علاقہ بنا دیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ فیصلہ کشمیری عوام اور ان کے منتخب نمائندوں کی رضامندی کے بغیر کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام محسوس کرتے ہیں کہ یہ فیصلہ جبری، غیر منصفانہ اوربھارت کے آئین میں درج جمہوریت اور وفاقیت کی روح کے خلاف ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حیثیت کی بحالی سے طویل عرصے تک انکار نے جمہوری اداروں کو کمزور کیا ہے اور کشمیری عوام کو ان کے جائز اختیارات اور حقوق سے محروم کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پرامن اور جمہوری احتجاج مودی حکومت کے لیے ایک یاد دہانی ہے کہ عوام کی امنگوں اور مینڈیٹ کو غیر معینہ مدت تک نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔رتن لال گپتا نے کہا کہ مودی حکومت کو کشمیری عوام سے ریاستی حیثیت کی بحالی سے متعلق اپنے وعدوں کا احترام کرنا چاہیے ۔

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *