Input your search keywords and press Enter.

مقبوضہ کشمیر میں باغ مالکان کو بے دخلی کا سامنا

سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز ـ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں شوپیاں کے باغ مالکان کو بے دخلی کے نوٹسز اور کولگام میں سینکڑوں پھل دار درختوں کی تباہی نے ان خدشات کو تقویت دی ہے کہ کشمیری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کو منظم پالیسیوں اور اقدامات سے نشانہ بنایا جا رہا ہے جس سے ان کی بقاء کو خطرہ لاحق ہے۔ ذرائع کے مطابق ضلع شوپیاں کے الوپورہ اور ملحقہ علاقوں میں درجنوں با غ مالکان کو بے دخلی کے نوٹس بھیجے گئے ہیں جس میں انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے خاندانوں کی کئی دہائیوں سے زیر کاشت زمین خالی کر دیں۔ نوٹسز سے تقریباً 70 خاندان متاثر ہو رہے ہیں جن کا واحد ذریعہ معاش باغبانی ہے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ حکام نے جرمانے اور قید سمیت قانونی کارروائی کی دھمکی دی ہے جبکہ بحالی یا معاوضے کی کوئی یقین دہانی نہیں کرائی گئی ہے۔ اس اقدام سے لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے جنہوں نے اپنی پوری زندگی اپنے آبائو اجداد سے وراثت میں ملنے والے سیب کے باغات کی نشونما میں لگا دی ہے۔ باغ مالکان کا کہنا ہے کہ یہ باغات نہ صرف ان کی آمدنی کا واحد ذریعہ ہیں بلکہ یہ خاندانی ورثہ بھی ہے جنہیں نسلوں کی محنت سے بنایا گیا ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ باغات سے بے دخل کر کے انہیں غربت، بے روزگاری اور سماجی پریشانیوں میں دھکیلا جار ہا ہے جہاں پہلے ہی بے روزگاری عروج پر ہے۔ بے دخلی کی یہ مہم علاقے میں پہلے ہی زمینوں پر قبضے کے خلاف پائے جانے والے شدید غم و غصے کے دوران سامنے آئی ہے جہاں صنعتی اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے لیے ہزاروں کنال زرعی زمین پر قبضہ کیا گیا ہے۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ بہت سے خاندانوں کو کوئی معاوضہ بھی نہیں دیا گیا ہے، جس سے یہ خدشات مزید بڑھ گئے ہیں کہ تازہ نوسز مقامی لوگوں کو ان کی زمینوں اور معاشی وسائل سے محروم کرنے کی وسیع مہم کا حصہ ہیں۔ ان خدشات کو اس وقت مزید تقویت ملی جب نامعلوم افراد نے حال ہی میں ضلع کولگام کے علاقے ہاتھی پورہ میں 500 سے زائد سیب کے درختوں کو کاٹ دیا جس سے لاکھوں روپے کا نقصان ہوا۔ مقامی باشندوں نے اس تباہی کو کشمیریوں کی روزی روٹی پر ہندوتوا قوتوں کا براہ راست حملہ اور باغبانی کے شعبے کے لئے یک دھچکا قرار دیا جو مقبوضہ علاقے میں ہزاروں خاندانوں کا واحد ذریعہ معاش ہے۔

 

سیاسی تجزیہ کاروں اور سول سوسائٹی کے ارکان کا کہنا ہے کہ یہ واقعات اس پریشان کن رحجان کی عکاسی کرتے ہیں جس میں کشمیر کی زرعی معیشت تیزی سے دباو میں آ رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جہاں ایک طرف باغبانوں کو نسلوں سے زیر کاشت زمینوں سے بے دخلی کا سامنا ہے ،تو دوسری طرف پھلوں کے باغات میں توڑ پھوڑ اور تباہی مچائی جا رہی ہے جس سے کاشتکاروں میں احساس عدم تحفظ بڑھ رہا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات کا مقصد کشمیریوں کو معاشی طور پر کمزور کرنا اور کاشتکاری سے ان کا لگائو ختم کرنا ہے جو کئی نسلوں سے ان کے جینے کا واحد سہارا ہے۔

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *