سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز (جموں) : بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں” بار ایسوسی ایشن پونچھ” نے سرنکوٹ بائی پاس پر بھارتی پولیس کی طرف سے ایک ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کیساتھ توہین آمیز سلوک کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔
ذرائع کے مطابق پونچھ کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج میر وجاہت کو 17 اگست کو پولیس اہلکاروں نے سورنکوٹ بائی پاس پر اس وقت روکا جب وہ چھٹی کے بعد پونچھ واپس جا رہے تھے۔ وکلا نے کہا کہ پولیس نے ان کی گاڑی کی چابیاں لینے کی کوشش کی اور گاڑی پر لگے عدالتی جھنڈے اور جج کی طرف سے اپنی شناخت ظاہر کرنے کے باوجود ان کے ساتھ بدتمیزی کی۔
بار ایسوسی ایشن نے اس واقعے کو محض ایک جج کی نہیں بلکہ پوری عدلیہ کی توہین قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی۔ احتجاجی وکلا ء نے بھارتی پولیس کے خلاف نعرے لگائے اور ریونیو کورٹس کے ساتھ ساتھ سورنکوٹ اور مینڈھر کی بار ایسوسی ایشنز سمیت عدالتی کام معطل کر دیا۔پونچھ بار ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری طاہر محمود نے کہا کہ یہ واقعہ پولیس کی ہٹ دھرمی کو ظاہر کرتا ہے اور ناقابل قبول ہے ۔
بار ایسوسی ایشن کے صدر سنیل شرما نے کہا کہ وکلا نے حکام کو ذمہ داروں کے خلاف کارروا ئی کا الٹی میٹم دیا ہے ۔ انہوں نے خبردار کیاکہ اگر ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف فوری کارروائی عمل میں نہ لائی گئی تو وی احتجاج میں تیزی لائی جائے گی۔
