Input your search keywords and press Enter.

کشمیر میں جھوٹا آپریشن، بھارتی بیانیہ ناکام ہو گیا

سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز ـ جنگیں صرف میدانوں میں نہیں لڑی جاتیں، بعض معرکے ایسی خبروں کے پردے میں برپا ہوتے ہیں جن میں گولی کی آواز سنائی نہیں دیتی مگر ان کے اثرات سرحدوں سے بہت دور تک پہنچتے ہیں۔ ایک جھوٹی خبر کبھی کبھی توپ کے گولے سے زیادہ تیزی سے سفر کرتی ہے، کیونکہ اس کا ہدف محض کوئی فوجی چوکی نہیں بلکہ انسانی ذہن، عالمی رائے عامہ اور ریاستوں کے باہمی اعتماد ہوتے ہیں۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوج کی جانب سے ایک ایسے شخص کو دہشت گرد قرار دے کر ہلاک کرنے کا دعویٰ، جو چند ہی لمحوں بعد زندہ سلامت میڈیا کے سامنے موجود تھا، اسی نوعیت کی اطلاعاتی جنگ کی ایک غیر معمولی مثال ہے۔محمد آصف کا سامنے آ کر اپنی شناخت، سابق فوجی خدمات اور موجودہ زندگی کی تفصیلات بیان کرنا اس واقعے کو محض ایک متضاد سرکاری بیان کا معاملہ نہیں رہنے دیتا بلکہ یہ سوال اٹھاتا ہے کہ کسی ریاستی نظام میں خبر، دعویٰ اور حقیقت کے درمیان فاصلہ اتنا وسیع کیسے ہو سکتا ہے؟

 

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کی پریس بریفنگ میں سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق بھارتی فوج نے 29 ستمبر کی شب مقبوضہ کشمیر میں ایک مشترکہ کارروائی کی اطلاع دی، پھر چند گھنٹوں بعد ایک ہلاک ہونے والے شخص کو محمد آصف الیاس عرف ہاشم موسیٰ قرار دیتے ہوئے اسے پاکستان سے تعلق رکھنے والا لشکر طیبہ کا دہشت گرد بتایا۔ مزید یہ دعویٰ سامنے آیا کہ وہ پاکستانی فوج کے اسپیشل سروسز گروپ کا حوالدار تھا اور اس کے سروس نمبر سمیت شناختی تفصیلات بھی جاری کی گئیں۔ مگر اس پوری کہانی کا سب سے بنیادی دعویٰ ہی اس وقت منہدم ہو گیا جب محمد آصف خود پاکستانی میڈیا کے سامنے بیٹھا تھا۔ اس نے بتایا کہ وہ 2008ء میں فوج میں شامل ہوا، 2023ء میں ایس ایس جی سے ریٹائرڈ ہوا، بعد ازاں نجی سکیورٹی کمپنی میں ملازمت اختیار کی اور اس وقت راولپنڈی میں اپنے خاندان کے ساتھ مقیم ہے۔ یہ واقعہ اطلاعاتی جنگ کی ایک بنیادی حقیقت واضح کرتا ہے کہ پروپیگنڈے کی طاقت اس کی شدت میں نہیں بلکہ اس کے بروقت پھیلاؤ میں ہوتی ہے۔

 

خبر جب پہلی مرتبہ نشر ہوتی ہے تو بہت سے لوگ اسے سچ سمجھ لیتے ہیں، لیکن اس کی تردید بعد میں سامنے آئے تو بھی پہلی اطلاع کے اثرات مکمل طور پر ختم نہیں ہوتے۔ یہی وجہ ہے کہ جدید دور میں ریاستی تنازعات میں میڈیا، سماجی ذرائع ابلاغ، مصنوعی تصاویر، جعلی شناختیں اور گمراہ کن بیانیے بھی جنگی وسائل کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔کسی شخص کی شناخت کو تبدیل کر کے اسے دہشت گرد قرار دینا صرف ایک فرد کی کردار کشی نہیں، بلکہ اس شناخت کو ایک بڑے سیاسی بیانیے میں استعمال کرنے کی کوشش بھی ہو سکتی ہے۔ اس معاملے میں ایک اور قابل توجہ پہلو بھارتی فوج اور بھارتی حکومت کے بیانات میں بیان کردہ تضاد ہے۔ ایک طرف کارروائی اور ہلاکت کا دعویٰ سامنے آیا، دوسری طرف بعد میں شناخت اور فوجی پس منظر سے متعلق ایسی تفصیلات پیش کی گئیں جنھیں پاکستانی جانب سے سامنے آنے والے زندہ شخص نے براہ راست غلط ثابت کر دیا۔

 

محمد آصف کی اپنی گفتگو اس معاملے کو مزید انسانی جہت دیتی ہے۔ ایک ایسا شخص جو اپنے گھر میں موجود ہو اور اچانک یہ سنتا ہو کہ بیرون ملک کسی فوج نے اسے مار دینے کا دعویٰ کر دیا ہے، اس کے لیے یہ تجربہ محض ایک خبر نہیں ہو سکتا۔ اس نے بتایا کہ دوستوں اور دیگر افراد کی مسلسل فون کالز کے ذریعے اسے اپنے بارے میں نشر ہونے والی اطلاعات کا علم ہوا، بعدازاں سماجی ذرائع ابلاغ پر بھی یہی دعویٰ دیکھا۔ یہ صورت حال اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتی ہے کہ جھوٹی خبر کا شکار ہونے والا فرد صرف سیاسی یا سفارتی سطح پر نقصان نہیں اٹھاتا بلکہ اس کی نجی زندگی، خاندان اور سماجی شناخت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

 

 بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کی تاریخ میں فالس فلیگ کارروائیوں کے الزامات پہلے بھی سامنے آتے رہے ہیں، تاہم ہر واقعے کی اپنی شہادتیں اور اپنا سیاق ہوتا ہے، اس لیے کسی بھی واقعے کو پہلے سے طے شدہ سانچے میں رکھنا بھی درست نہیں۔ موجودہ معاملے میں البتہ ایک ایسی قابل تصدیق شہادت سامنے آئی ہے جسے نظر انداز کرنا مشکل ہے، جس شخص کو ہلاک قرار دیا گیا، وہ خود میڈیا کے سامنے موجود ہے۔ اس ایک حقیقت نے پورے دعوے کی بنیاد پر بنیادی سوال کھڑا کر دیا ہے۔

 

 اس واقعے کا تعلق صرف کشمیر سے نہیں بلکہ جنوبی ایشیا میں بڑھتی ہوئی سلامتی کی پیچیدگیوں سے بھی ہے۔ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات، سرحدی کشیدگی اور مختلف مسلح گروہوں کی سرگرمیاں پہلے ہی خطے کو عدم استحکام سے دوچار کیے ہوئے ہیں، اگر ان حالات میں دشمن ریاستیں مخالفانہ اطلاعاتی محاذ بھی کھول دیں تو کسی حقیقی واقعے اور من گھڑت دعوے کے درمیان امتیاز مزید مشکل ہو جاتا ہے۔ پاکستان کے لیے اس صورتحال کا تقاضا یہ ہے کہ وہ ہر واقعے کی دستاویزی شہادت محفوظ کرے، بین الاقوامی میڈیا اور سفارتی حلقوں تک قابل تصدیق معلومات بروقت پہنچائے اور جذباتی ردعمل کے بجائے شواہد کو اپنی پہلی دفاعی لکیر بنائے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے یہ کہنا کہ کسی بھی مہم جوئی کی صورت میں پاکستان اپنے دفاع کے لیے تیار ہے، دراصل ایک ایسے ماحول کی عکاسی کرتا ہے جہاں دشمن غلط اطلاعات سے خطرناک نتائج پیدا کرنا چاہتا ہے۔

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *