Input your search keywords and press Enter.

منتخب حکومت کوبااختیار بنانے کیلئے ریاستی درجے کی بحالی ضروری ہے، علی محمد ساگر

سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز (سری نگر) :بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں میںنیشنل کانفرنس کے جنرل سیکرٹری اور سرینگر کے حلقے خانیار سے رکن اسمبلی علی محمد ساگر نے کہا ہے کہ علاقے کی منتخب جمہوری حکومت کو موثر اختیارات کے ساتھ بااختیار بنانے، انتظامی جوابدہی کو یقینی بنانے اور اسے براہ راست عوام کے سامنے جوابدہ بنانے کے لیے ریاست درجے کی بحالی ضروری ہے۔

ذرائع کے مطابق علی محمد ساگر نے ایک بیان میں کہا کہ موجودہ انتظامی انتظامات نے بیوروکریسی کو غیر معمولی اختیارات دے دیے ہیں، جس کے نتیجے میں بعض اوقات ایسے حالات پیدا ہوتے ہیں جب وہ منتخب حکومت اور منتخب اسمبلی کے فیصلوں پر اپنے خیالات کو فوقیت دینے کی کوشش کرتی نظر آتی ہے۔انہوں نے کہا کہ حال ہی میں ریاست کی بحالی سے متعلق اسمبلی کی قرارداد کے بارے میں سینئر سرکاری عہدیداروں کے ذریعہ کئے گئے اعتراضات اور مواصلات، بشمول سابقہ اسمبلی کی قراردادوں کے حوالہ جات، سنگین تشویش کا باعث ہیں۔

عالمی محمد ساگر نے کہا کہ یہ صورتحال اس بنیادی حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ ریاست محض ایک انتظامی حیثیت نہیں ہے بلکہ جمہوری احتساب کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ ریاست کا درجہ بحال ہونے کے بعد، منتخب حکومت کے پاس زیادہ موثر آئینی اور انتظامی ڈھانچہ ہوگا تاکہ انتظامیہ کو عوام اور منتخب ایوان کے سامنے جوابدہ بنایا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے لوگوں نے اپنی حکومت کو اپنے ووٹ کے ذریعے منتخب کیا ہے، اس لیے انتظامیہ کو اس جمہوری مینڈیٹ کے تابع رہنا چاہیے۔

علی محمد ساگر نے کہا کہ آج ایک منتخب حکومت کو انتظامی امور میں غیر معمولی نوکر شاہی اثر و رسوخ کا سامنا ہے۔ یہ جمہوری نظام کے لیے انتہائی تشویش ہے اور اس کا دیرپا حل اختیارات کی واضح حد بندی اور ریاست کی بحالی میں مضمر ہے۔

نیشنل کانفرنس کے جنرل سکریٹری نے ریاستی حیثیت کی بحالی کی قرار داد کی مخالفت پر بی جے پی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ اگر بی جے پی حقیقی طور پر ریاست کی بحالی کی حمایت کرتی ہے تو اسے اسمبلی کے اندر مطالبے کی حمایت میں واضح اور غیر مبہم موقف پیش کرنا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ قرارداد کی مخالفت اور حالیہ کارروائی کے دوران بی جے پی کے ارکان کے واک آٹ نے اس مسئلہ پر پارٹی کے متضاد موقف کو عوام کے سامنے بے نقاب کر دیاہے۔

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *